بھٹکل 23/مارچ (ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والے رجسٹرار جنرل اینڈ سینسس کمیشن آف انڈیا نے نئی مردم شماری کے احکامات جاری کیے ہیں۔ جس کے تحت یکم اپریل سے 15 اپریل تک پہلے مرحلے میں گھرانوں کی فہرست سازی اور افراد کو خود آن لائن رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ جس کے تحت شہری اپنے گھروں سے ہی آن لائن طریقے سے مکان، نام، پتہ، تعلیمی معلومات، موبائل نمبر سمیت کل 34 سوالات کے جوابات درج کر سکیں گے۔ اس کے فوری بعد یعنی 16 اپریل سے 15 مئی تک مردم شماری کے اہلکار (جن میں بڑی تعداد اساتذہ کی ہوگی) گھر گھر جا کر فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کریں گے اور جن گھروں یا افراد کا اندراج رہ گیا ہوگا، ان کی تفصیلات جمع کر کے ریکارڈ میں شامل کریں گے۔
مردم شماری کا دوسرا بڑا مرحلہ فروری 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس پورے عمل کی نگرانی محکمہ ریونیو کے سینئر افسران بطور نوڈل افسر کریں گے، جبکہ اسکول اساتذہ کو مردم شماری کے عملے کے طور پر اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق تعلیمی سال 2025-2026 اپنے اختتام کے قریب ہے اور گرمیوں کی تعطیلات میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں، تاہم اساتذہ کے لیے یہ چھٹیاں مصروف ثابت ہونے والی ہیں کیونکہ انہیں مردم شماری کے فیلڈ ورک کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر آئندہ 2028 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے حلقہ بندی، نشستوں کی تقسیم اور ریزرویشن کا تعین کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں میں اضافے کا بھی امکان ہے، جس سے ریاست اور ملک کی سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
دریں اثنا اپریل یا مئی کے دوران کرناٹک میں خصوصی ووٹر فہرست نظرثانی (SIR) شروع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس سلسلے میں ابھی تک باضابطہ احکامات جاری نہیں ہوئے ہیں۔ اگر یہ عمل شروع ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی بڑی حد تک اساتذہ پر ہی عائد ہوگی، جس سے ان پر کام کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
ادھر ریاستی حکومت مئی کے مہینے میں گرام پنچایت، تعلقہ پنچایت اور ضلع پنچایت انتخابات کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر SIR کا عمل اسی دوران شروع ہوتا ہے تو مقامی اداروں کے انتخابات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تاہم حکومت فی الحال موجودہ ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہی انتخابات کرانے کے لیے تیار دکھائی دے رہی ہے۔
سیاسی سرگرمیوں کے تحت ریاستی اسمبلی کا موجودہ اجلاس 27 مارچ کو اختتام پذیر ہوگا، جبکہ 25 مارچ کو کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس منعقد ہوگا۔ اسی دن وزیراعلیٰ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس بھی متوقع ہے، جس میں ضمنی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔