منگلورو، 23 / مارچ (ایس او نیوز) موڈبیدری پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر سندیش پی جی کے خلاف وینور پولیس نے عصمت دری اور جبری وصولی کا معاملہ درج کیا ۔
شکایت کنندہ کے مطابق یہ معاملہ اس کے اور اس کی بہن کے درمیان چل رہے زمین جائداد سے متعلقہ تنازع سے جڑا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ وینور پولیس اسٹیشن میں اس کے اور اس کے شوہر کے خلاف کچھ سال قبل ایک شکایت درج کی گئی تھی ۔ سندیش پی جی اس معاملے کا تفتیشی افسر [آئی او] تھا، جس نے تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر پولیس متاثری شکایت کنندہ سے قریبی تعلقات بنا لیے اور اس کے گھر آنا جانا شروع کیا ۔ متاثرہ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ سال 2020 اور 2023 کے دوران انسپکٹر نے مسلسل جنسی ہراسانی کی اوراس سے روکنے کی کوشش کرنے پر اس کے شوہر کے خلاف درج کیس کو دوبارہ کھولنے کی دھمکی دیتا رہا ۔
شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ انسپکٹر سندیش نے اس سے 13 لاکھ روپے نقد وصول کیے جبکہ 3,62,000 روپے بینک اکاونٹ سے ٹرانسفر کروائے ۔ اس کی زمین پر موجود قیمتی درخت فروخت کیے جس کی مالیت تقریباً 2,50,000 روپے ہوتی ہے ۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انسپکٹر نے اس معاملے کو افشا کرنے کی صورت میں اسے برے نتائج کی دھمکی دے رکھی تھی ۔ اس کے علاوہ سمیتا اور سنیتا لوبو نامی انسپکٹر کی ساتھی خواتین نے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں ۔
شکایت کنندہ متاثرہ خاتون نے انسپکٹر سندیش پی جی پر ایک سنگین الزام یہ بھی لگایا ہے کہ اس کے زیورات انسپکٹر نے اپنے ڈرائیور اکبر کے نام گروی رکھ کر 4 لاکھ روپے حاصل کیے ہیں ۔
اس شکایت کی بنیاد پر وینور پولیس نے مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے ۔ خیال رہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر 17 مارچ سے انسپکٹر سندیش کو معطل کر دیا گیا ہے ۔