کاروار، 24 / مارچ (ایس او نیوز) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کی وجہ سے پٹرول اور گیس کی فراہمی میں جو رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اس کے نتیجے میں ایک طرف عوام مشکلات کا شکار ہیں تو دوسری طرف یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ رسوئی گیس کے سلینڈروں میں 14.2 کلو گیس کے بجائے صرف 10 کلو گیس فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
اتر کنڑا کے گیس تقسیم کاروں کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ جیسی تیل کمپنیوں کی جانب سے دو چار دن کے اندر اس تعلق سے قطعی فیصلہ سامنے آئے گا۔
ذرائع کے ملی اطلاعات کے مطابق اس اسکیم کو مرحلہ وار عمل میں لایا جائے گا اور اس کی شروعات بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ سے ہوگی ۔ پھر اس کے بعد انڈین آئل اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن یہ طریقہ اختیار کریں گے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس اسکیم پرعمل پیرائی کے لئے سلینڈروں میں گیس بھرنے والی مشینوں اور سافٹ ویئر وغیرہ میں ضروری تبدیلیاں کرنے اور ایکسپلوزیو ڈپارٹمنٹ سے اجازت حاصل کرنے جیسی کچھ تکنیکی کارروائیاں ہونی ہیں جسے دو تین دن میں پورا کر لیا جائے گا جس کے بعد باضابطہ اعلان ہونے کی توقع ہے۔ اس منصوبے کے عمل میں آنے کی صورت میں دس کلو والے گیس سلینڈر کی قیمت بھی کم ہوگی اور گیس کی کم مقدار والا اسٹیکر بھی سلینڈروں پر چسپاں کیا جائے گا۔
سمجھا جاتا ہے کہ اس اسکیم سے ایک طرف عبوری طور پر عوام کو درپیش رسوئی گیس کی کمی پر قابو پایا جا سکے گا اور گیس کی تقسیم کا عمل بھی تیز ہو جائے گا ۔ مگر دوسری طرف پہلے 14.2 کلو کا جو سلینڈر عام طور پر اوسطاً ایک سے ڈیڑھ مہینہ تک چلتا تھا اب وہ زیادہ سے زیادہ 25 سے 30 دن کے اندر ختم ہو جائے گا اور دوسرا سلینڈر بک کرنے کا درمیانی وقفہ اگر کمپنیوں کی طرف سے کم نہیں کیا گیا تو عوام کے لئے مزید دشواری برقرار رہے گی۔