نئی دہلی، 24 مارچ (ایس او نیوز): مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے دوران پاکستان کی ممکنہ ثالثی کے کردار نے عالمی سطح پر نئی سفارتی صف بندی کو جنم دیا ہے، جبکہ بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے اسے نئی دہلی کے لیے ممکنہ “سفارتی ناکامی” قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، کیونکہ اسلام آباد کے دونوں ممالک کے ساتھ بیک وقت سفارتی روابط موجود ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے اور پس پردہ سفارتی رابطوں میں کردار ادا کر رہا ہے، جس سے اس کی عالمی اہمیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اس بحران میں ثالثی میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ 1970 کی دہائی کے بعد ایک بار پھر اس کے لیے عالمی سفارتی مقام کو مضبوط کرنے کا موقع بن سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارت میں کانگریس پارٹی سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے ان رپورٹس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان واقعی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے تو یہ بھارت کے لیے ایک “شدید سفارتی دھچکہ” ہو سکتا ہے۔
کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے سفارتی میدان میں بھارت پر سبقت حاصل کی ہے، حالانکہ بھارت کو خطے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی سفارتی حکمت عملی اور عالمی بیانیہ زیادہ مؤثر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی عالمی سطح پر اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بھارت کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔
ادھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے مغربی ایشیا کی جنگ کو بھارت کے لیے “سنگین چیلنج” قرار دیا ہے اور کہا کہ اس کے اثرات تجارت، توانائی اور عالمی سپلائی چین پر پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس تنازع کے طویل المدتی اثرات بھارت کی معیشت اور عوام پر بھی پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر تیل اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری جنگ نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے، جہاں ایک طرف پاکستان اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے تنقید اور نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔