ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / بنگلہ دیش میں ہولناک سانحہ: بس دریائے پدما میں جاگری، 23 افراد جاں بحق

بنگلہ دیش میں ہولناک سانحہ: بس دریائے پدما میں جاگری، 23 افراد جاں بحق

Thu, 26 Mar 2026 13:13:12    S O News
بنگلہ دیش میں ہولناک سانحہ:  بس دریائے پدما میں جاگری، 23 افراد جاں بحق

ڈھاکہ ، 26 /مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) بنگلہ دیش کے جنوب مغربی ضلع راجباڑی میں ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جہاں ایک مسافر بس فیری پر چڑھنے کے دوران توازن کھو بیٹھی اور دریائے پدما میں جاگری، جس کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد لاپتا ہو گئے۔ یہ حادثہ بدھ کی شام تقریباً 5:15 بجے دولتدیا فیری ٹرمینل پر پیش آیا۔

اطلاعات کے مطابق بس میں 40 سے زائد مسافر سوار تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بس میں مسافروں کی تعداد 50 کے قریب تھی، کیونکہ راستے میں مختلف مقامات سے لوگوں کو سوار کیا گیا تھا۔ یہ تمام مسافر عید کی چھٹیاں گزارنے کے بعد ڈھاکہ واپس جا رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق بس فیری کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اسی دوران ایک چھوٹی کشتی پونٹون سے ٹکرا گئی، جس کے باعث ڈرائیور کا کنٹرول ختم ہوگیا اور بس سیدھی دریا میں جاگری۔ کچھ مسافر تیر کر باہر نکلنے یا بچا لیے جانے میں کامیاب رہے، تاہم زیادہ تر افراد بس کے اندر ہی پھنس گئے۔

حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، جس میں فائر سروس، نیوی، پولیس اور کوسٹ گارڈ کی ٹیمیں شامل ہیں۔ سخت حالات اور اندھیرے کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔ تقریباً چھ گھنٹے کی مشقت کے بعد ریسکیو جہاز ’حمزہ‘ نے کرین کی مدد سے ڈوبی ہوئی بس کو دریا سے باہر نکالا۔

حکام کے مطابق بس سے متعدد لاشیں برآمد کی گئیں جبکہ غوطہ خوروں نے بھی پانی سے کئی نعشیں نکالیں۔ پولیس انسپکٹر رسل مولا نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک 23 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تاہم کچھ افراد اب بھی لاپتا ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے اندھیرے کے باعث ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا، تاہم دن کی روشنی میں دوبارہ تلاش کا کام شروع کیا جائے گا۔ مختلف ایجنسیاں مشترکہ طور پر لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر کہرام مچ گیا، جہاں متاثرین کے اہل خانہ اشکبار آنکھوں کے ساتھ اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین نظر آئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کئی متاثرین کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، جس سے سانحے کی شدت مزید بڑھ گئی۔

واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمٰن نے حکام سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔


Share: