بنگلورو ، 26 /مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اسمبلی میں بجٹ پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے متعدد اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ پر مجموعی طور پر 50 اراکین نے اپنی رائے پیش کی، جن میں حکمراں جماعت، اپوزیشن اور دیگر نمائندگان شامل تھے، اور بحث کا دورانیہ 24 گھنٹے 45 منٹ تک محیط رہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے بجٹ پر اتنی بڑی تعداد میں اراکین کی جانب سے تفصیلی گفتگو پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بجٹ کا گہرائی سے مطالعہ کیے بغیر محض سوشل میڈیا کے لیے بیانات دیے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کو “خالی” قرار دینا حقیقت کے برعکس ہے، کیونکہ یہ ایک “بھرا ہوا اور مضبوط بجٹ” ہے۔
بجٹ کے اہم نکات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال 2026-27 کے لیے ریاستی بجٹ کا حجم 4,48,004 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.4 فیصد زیادہ ہے۔ ریاست کی جی ایس ڈی پی (GSDP) میں 8.1 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو قومی جی ڈی پی (7.4 فیصد) سے زیادہ ہے۔
مالی خسارہ کو 2.95 فیصد تک محدود رکھا گیا ہے، جو مقررہ حد کے اندر ہے، جبکہ ریاست کا قرضہ جی ایس ڈی پی کے 24.94 فیصد کے اندر ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کو ظاہر کرتا ہے۔
مرکز پر تنقید کرتے ہوئے سدارامیا نے الزام لگایا کہ جی ایس ٹی میں تبدیلیوں اور معاوضے کی بندش سے ریاست کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق جی ایس ٹی کی شرح میں تبدیلی کے بعد محصولات کی شرح نمو 10 فیصد سے گھٹ کر 4 فیصد رہ گئی اور ریاست کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت ریاستوں کے ساتھ مالی انصاف نہیں کر رہی اور ٹیکس میں مناسب حصہ نہیں دیا جا رہا۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ ان کی حکومت کا مقصد خواتین، کسانوں، مزدوروں اور پسماندہ طبقات کو مضبوط بنانا، سماجی انصاف اور معاشی مساوات کو فروغ دینا، اور تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔
انہوں نے بی آر امبیڈکر کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد کو سماجی اور معاشی انصاف ملے۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ یہ بجٹ ترقی پسند، عوام دوست اور متوازن ہے، اور اپوزیشن کو محض سیاسی مخالفت کے بجائے تعمیری تجاویز دینی چاہئیں۔