بنگلورو ،25 / مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک میں گرام پنچایت انتخابات فی الحال ممکن نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ 5,950 گرام پنچایتوں میں شامل 96,000 سے زائد اراکین کی نئی آبادی کے مطابق تعداد کا تعین کرنے میں کم از کم چار ہفتے درکار ہوں گے، جس کے بعد ریزرویشن کے عمل کو مکمل کرنے اور حتمی فہرست ریاستی الیکشن کمیشن کو پیش کرنے میں مزید تین ماہ کا وقت لگے گا۔
چیف جسٹس یبھو بکھرو اور جسٹس سی ایم پونچا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کی کمیشن نے استدعا تھی کہ حکومت فوری طور پر ریزرویشن نوٹیفکیشن جاری کرے تا کہ 5,950 گرام پنچایتوں اور 187 شہری بلدیاتی اداروں کے عام انتخابات کرائے جاسکیں۔
تیاریاں ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں ۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پرتیما ہونا پور نے عدالت کو بتایا کہ 28 جنوری 2026 کو تمام ڈپٹی کمشنر ز کو ہدایت دی گئی گئی تھی کہ وہ میعاد پوری کر چکی پنچایتوں کے انتخابات کے لیے تیاری کریں۔ کرناٹک اسٹیٹ حد بندی کمیشن نے 18 مارچ کو تمام ڈپٹی کمشنرز سے 15 دن کے اندر حلقہ بندی اور ارکان کی تعداد سے متعلق ضروری اعداد و شمار فراہم کرنے کے لیے کہا ہے ۔
ڈی سی سے ڈیٹا حاصل کرنے میں دو ہفتے لگیں گے۔ کمیشن کو ڈیٹا کی جانچ اور سفارشات تیار کرنے کے لیے ایک ہفتہ درکار ہے۔ حکومت کو سفارشات کی جانچ اور ارکان کی کل تعداد طے کرنے کے لیے ایک ہفتے کی ضرورت ہوگی ۔ حکومت کے مطابق، ارکان کی تعداد حتمی ہونے کے بعد ریزرویشن کا عمل کم از کم تین ماہ لے گا۔
بینچ نے حکومت کا بیان ریکارڈ کیا اور سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی۔ شہری بلدیاتی اداروں کی تیاری اور حد بندی تقریباً مکمل ہو گئی ہے۔ حکومت نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ریاست کے187 شہری بلدیاتی اداروں میں سے 167 اداروں کی وارڈ حد بندی مکمل ہوگئی ہے ۔ صرف 21 اداروں کا کام زیر التواء ہے، 23 اربن لوکل باڈیز کے لیے ریزرویشن نوٹیفکیشن کا مسودہ جاری کر دیا گیا ہے۔
143 اداروں کے لیے ریزرویشن کی ڈرافٹ لسٹ زیر غور ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ کے این پھنیند را نے حکومت کی تاخیر پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ انتخابات میں غیر ضروری التواء مقامی جمہوریت کو متاثر کرتا ہے۔
حکومتی بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ ارکان کی تعداد طے کرنے میں 4 ہفتے ، ریزرویشن حتمی کرنے میں 3 ماہ ، حد بندی اور دیگر تکینکی کام پہلے سے جاری ایسے میں گرام پنچایت انتخابات کا قریب مستقبل میں ہونا تقریبا ناممکن ہے۔ شہری اداروں کے انتخابات بھی اسی رفتار کے مطابق آگے بڑھیں گے۔ ریاستی الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ اب اگلی سماعت میں حکومت کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔