بنگلورو ، 26 /مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاست کرناٹک کی سیاست میں ان دنوں نئی چہ میگوئیوں نے جنم لے لیا ہے، جب ودھان سودھا میں 16ویں اسمبلی کے تمام اراکین کا اجتماعی فوٹو شوٹ طے شدہ وقت سے قبل ہی انجام دیا گیا۔ یہ تصویری نشست اسپیکر یو ٹی قادر کی نگرانی میں ودھان سودھا کی عظیم الشان سیڑھیوں کے سامنے منعقد ہوئی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی ہیں۔
عام طور پر اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے قریب اراکین کا گروپ فوٹو لیا جاتا ہے، لیکن اس بار مدت ختم ہونے میں ابھی تقریباً دو سال باقی ہیں۔ ایسے میں اچانک فوٹو شوٹ نے کئی شبہات کو جنم دیا ہے، کیا سِدارامیا کی جگہ تبدیلی ہونے والی ہے؟، کیا اسپیکر کی تبدیلی ممکن ہے؟ یا پھر ریاستی کابینہ میں جلد ہی رد و بدل ہونے والا ہے؟۔
سیاسی ذرائع کے مطابق کابینہ میں رد و بدل کا دباؤ پہلے ہی موجود ہے اور کئی اراکین وزارت کے خواہشمند ہیں۔ ایسی بھی خبریں ہیں کہ یو ٹی قادر کو وزیر بنایا جا سکتا ہے، جس کے پیش نظر یہ فوٹو شوٹ پہلے ہی کروایا گیا ہو۔
دوسری جانب اپوزیشن نے بھی اس معاملے پر سوال اٹھائے ہیں۔ کچھ رہنماؤں نے اسے وزیر اعلیٰ کی ممکنہ تبدیلی کا اشارہ قرار دیا ہے۔اپوزیشن لیڈروں کے مطابق اس فوٹو شوٹ کے پیچھے تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں اسپیکر یو ٹی قادر جلد ہی وزیر بن سکتے ہیں، وزیر اعلیٰ کی تبدیلی متوقع ہے، اور ریاست میں قبل از وقت انتخابات کا امکان ہے۔
فی الحال حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت نہیں دی گئی ہے، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ریاست کی سیاست میں آئندہ دنوں میں کیا تبدیلیاں ہوں گی، اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔