ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں 5 جی رسائی محدود، بہار اور یوپی آگے

کرناٹک میں 5 جی رسائی محدود، بہار اور یوپی آگے

Tue, 24 Mar 2026 11:39:14    S O News

بنگلورو، 24 مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) ملک کے ٹکنالوجی مرکز کے طور پر پہچانا جانے والا کرناٹک 5 جی کوریج کے معاملے میں بہار اور اتر پردیش جیسی ریاستوں سے کافی پیچھے ہے۔ لوک سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے اگلی نسل کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے پھیلاؤ میں موجود خامیوں کا پتہ چلتا ہے۔

محکمہ مواصلات کی جانب سے لوک سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کرناٹک میں 5 جی کوریج صرف 79.92 فیصد آبادی تک محدود ہے، جو قومی اوسط 86.18 فیصد سے کافی کم ہے۔ اس کے مقابلے میں بہار میں 94.52 فیصد جبکہ اتر پردیش میں 85.25 فیصد کوریج ہے۔ یہ تکنیکی شہرت اور زمینی سطح پر کنیکٹیویٹی کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

اس صورتحال سے اس ریاست میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی غیر مساوی رفتار پر سوالات اٹھتے ہیں، جسے اکثر جدت اور آئی ٹی پر مبنی ترقی میں آگے مانا جاتا ہے۔ اگرچہ کرناٹک نے بنگلورو کے اردگرد ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت قائم کی ہے، لیکن اگلی نسل کی کنیکٹیویٹی کے فوائد زیادہ تر شہری علاقوں تک ہی محدود نظر آتے ہیں۔

ملک میں چوتھے سب سے زیادہ 34,444 بیس ٹرانسیور اسٹیشن (بی ٹی ایس) اور 2.33 کروڑ 5 جی صارفین ہونے کے باوجود ریاست میں کوریج غیر مساوی ہے اور دیہی و دور دراز علاقوں میں اب بھی محدود رسائی ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے زیادہ آمدنی والے شہری بازاروں کو ترجیح دینا اس عدم توازن کی بڑی وجہ ہے۔ اس کے برعکس بہار اور اتر پردیش جیسی ریاستوں نے نسبتاً کم بنیادی ڈھانچے کے باوجود اپنی بڑی آبادی تک 5 جی کی رسائی پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکمت عملی کے تحت تقسیم اور آخری مرحلے کی کنیکٹیویٹی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
 


Share: