بھٹکل ، 28 / مارچ (ایس او نیوز) مغربی ایشیاء میں چل رہی جنگی سرگرمیوں کی وجہ سے ملک میں ایندھن کا مسئلہ سنگین روپ اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ جس کا اثر بھٹکل شہر میں بھی دکھائی دے رہا ہے ۔
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے اور اس کے بعد ایران کے جوابی حملوں کے پس منظر میں گھریلو استعمال کی ایل پی جی کی تقسیم کو قابو میں رکھنے کے لئے شہری علاقے میں سلینڈر بکنگ کا وقفہ 15 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقے میں 35 کر دیا ہے ۔ مرکزی اور ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں میڈیا کے اندر اس وقفے کو مزید بڑھانے اور 25 دن کے بجائے 35 دن کرنے کی جو خبریں آ رہی ہیں وہ بے بنیاد ہیں ۔ اس کے باوجود عوام کی دشواریاں برقرار ہیں ۔
دوسری طرف کمرشیل گیس سلینڈروں کی تقسیم میں کمی کی وجہ سے ہوٹل کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ اکثر ہوٹلوں کی مینو فہرست کو گھٹا دیا گیا ہے ۔ کچھ ہوٹل کے باورچیوں نے ہوٹل کے پچھواڑے میں خالی جگہوں پر دیسی طرز کے چولھوں میں لکڑیوں سے آگ جلا کر کھانے پینے کی چیزیں تیار کر رہے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ محکمہ جنگلات کے تحت بھٹکل تعلقہ میں موجود دو ڈپو میں لکڑی کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ محکمہ جنگلات کے افسران کا کہنا ہے کہ ان دونوں ڈپو میں لکڑیوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے اور فی الحال اس میں کمی کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے ۔
البتہ مرڈیشور کے لکڑی ڈپو صرف لاشیں جلانے کے لئے ہی لکڑیاں دستیاب ہیں، مگر محکمہ جنگلات کے افسران نے بتایا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر یہاں پر بھی بڑی مقدار میں لکڑیوں ذخیرہ فراہم کیا جائے گا ۔
