تہران، 31/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ایرانی پارلیمنٹ کی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک بڑے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس منصوبے کے تحت اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس (ٹول) عائد کیا جائے گا۔ ’آئی آر آئی بی‘ کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کمیشن کے ایک رکن نے بتایا کہ اس منصوبے کو باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ اس میں کئی اہم پہلوؤں پر توجہ دی گئی ہے۔ ان میں آبنائے ہرمزکا حفاظتی انتظام، جہازوں کی حفاظت، ماحولیات کا تحفظ، اور پیسوں کا لین شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ جہازوں کو ٹیکس کی ادائیگی ایرانی کرنسی ریال میں کرنا ہوگی۔
اس نئے منصوبے میں امریکی اور اسرائیلی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں میں شامل ممالک کے بحری جہازوں کو بھی اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ منصوبہ اس خطے میں ایران اور اس کی فوج کی طاقت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ ایران اس راستے کے لیے قانونی فریم ورک بنانے کے لیے عمان کی مدد طلب کرے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ اسرائیل اتحاد کے درمیان جنگ جاری ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران اس راستے پر مکمل کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کچھ ممالک ایران کے ساتھ الگ سے معاہدہ کرکے وہاں سے گزررہے ہیں لیکن آنے والے دنوں میں امریکہ اپنے جہازوں یا کثیر القومی سکیورٹی فورسز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائے گا۔
وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھرایران کو وارننگ دی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر ایران نے فوری طور پر آبنائے ہرمز کو تجارت کے لیے نہ کھولا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس، آئل فیلڈز اور جزیرہ خرگ پر بمباری کر کے انہیں مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران کے شہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔
امریکی صدر نے معاہدہ نہ کرنے اور48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمزنہ کھولنے پر ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملوں کی دھمکی دے دی۔ انہوں ’ایکس‘ پر لکھا کہ امریکہ ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے جس میں بڑی پیش رفت ہوچکی ہے۔