ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مغربی کنارے میں ہلاکتیں اور استثنیٰ کا بحران: اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ

مغربی کنارے میں ہلاکتیں اور استثنیٰ کا بحران: اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ

Sun, 29 Mar 2026 17:34:25    S O News

یروشلم ، 29/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مغربی کنارے میں ۲۰۲۰ء سے اب تک کم از کم ۱۱۰۰؍ فلسطینیوں کا قتل کیا جا چکا ہے، جن میں تقریباً ایک چوتھائی بچے شامل ہیں، اور ان میں سے کسی بھی واقعے میں کسی اسرائیلی شہری پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی، جسے ماہرین ایک ’’منظم استثنیٰ‘‘ کا واضح ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس ہفتے مزید سنگین ہو گئی جب اسرائیلی پارلیمنٹ میں انتہائی دائیں بازو کے قانون ساز یتزاک کرویزر نے ایک ایسے فوجی حملے کا دفاع کیا جس میں ایک فلسطینی خاندان ماں، باپ اور دو بچے حنین میں قتل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ’’حنین میں کوئی معصوم شہری نہیں، کوئی معصوم بچے نہیں ہیں… چاہے وہ بچے ہوں یا خواتین، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ اس بیان نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کو مزید گہرا کر دیا۔ اسی دن دی گارجین کی ایک تفصیلی رپورٹ سامنے آئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے قتل کے کسی ایک بھی کیس میں اسرائیلی شہری پر مقدمہ نہیں چلایا گیا، جسے رپورٹ نے ’’استثنیٰ کی ثقافت‘‘ قرار دیا۔

اس پالیسی پر اسرائیل کے اندر بھی غیر معمولی تنقید سامنے آئی ہے۔ سابق وزیر اعظم ایھود اولمرت نے آئی سی سی سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں فریقوں کو تحفظ مل سکتا ہے۔ اسی طرح موساد، شن بیٹ اور پولیس کے درجنوں سابق اعلیٰ عہدیداروں نے ایک مشترکہ خط میں آباد کاروں کے تشدد کو ’’منظم سرگرمی‘‘ اور ’’یہودی دہشت گردی‘‘ قرار دیا، جبکہ سابق وزیر خارجہ ٹزیپی لیونی نے خبردار کیا کہ اسرائیل میں اب ’’ایک جیسا قانونی نظام‘‘ باقی نہیں رہا۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اس مسئلے نے توجہ حاصل کی ہے۔ امریکی اداکار مارک رفالو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’قتل اور زمین پر قبضے میں مکمل لاقانونیت اندر بھی اور باہر بھی۔‘‘ فلسطینی حکام کے مطابق صرف گزشتہ ماہ مغربی کنارے میں ۵۱۱؍ حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں کم از کم سات فلسطینی ہلاک ہوئے، جو تشدد کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔


Share: