ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں ایل پی جی کی شدید قلت کے بعد لکڑی کی مانگ میں اضافہ، بھٹکل، ہوناور اور کمٹہ میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی شروع

کرناٹک میں ایل پی جی کی شدید قلت کے بعد لکڑی کی مانگ میں اضافہ، بھٹکل، ہوناور اور کمٹہ میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی شروع

Sun, 29 Mar 2026 18:50:55    S O News
کرناٹک میں ایل پی جی کی شدید قلت کے بعد لکڑی کی مانگ میں اضافہ، بھٹکل، ہوناور اور کمٹہ میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی شروع

بھٹکل، 29 مارچ (ایس او نیوز): ریاست کرناٹک میں ایل پی جی (LPG) سلنڈروں کی قلت اور بڑھتی قیمتوں کے باعث عوام تیزی سے روایتی ایندھن یعنی لکڑی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ ضلع اتر کنڑا میں لکڑی کی مانگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی ڈپو خالی ہو چکے ہیں۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران جنگلاتی لکڑی کی کٹائی پر عائد پابندیوں کے باعث صرف پرانا ذخیرہ ہی فروخت کیا جا رہا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں ایل پی جی سپلائی میں رکاوٹ کے بعد لکڑی پر انحصار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق مارچ کے مہینے میں لکڑی کی مانگ میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ضلع کے کئی ڈپو مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں جبکہ دیگر میں محدود مقدار میں ذخیرہ باقی ہے۔

ذرائع کے مطابق ہوناور سب ڈویژن میں 28 عوامی ڈپوؤں میں سے 8 مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ڈپوؤں میں بھی ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے حکام نے تقریباً 3.61 لاکھ اکیشیا درختوں کی کٹائی کی اجازت دی ہے، جن میں سے قریب 80 ہزار درخت بھٹکل میں کاٹے جائیں گے۔

bhatkal-depot-2.jpg

ہوناور کے سب ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (DFO) یوگیش پی کے نے ساحل آن لائن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مرکزی حکومت نے تقریباً 1700 ہیکٹر جنگلاتی اراضی پر درختوں کی کٹائی کی منظوری دی ہے اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سب ڈویژن میں ہوناور، بھٹکل اور کمٹہ تعلقہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں مجموعی طور پر 30 لکڑی ڈپو موجود ہیں، جن میں سے دو بڑے ڈپو عوام کے لیے مختص نہیں ہیں، جبکہ باقی 28 چھوٹے ڈپو عوامی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ صورتحال صرف ضلع اتر کنڑا تک محدود نہیں ہے۔ اڈپی، مینگلور، شموگہ اور بینگلور سمیت ریاست کے دیگر حصوں سے بھی ایل پی جی سپلائی متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس کے باعث گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ہوٹل اور ریسٹورنٹ کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔

اسی دوران بھٹکل کے ایک سیاح نے ساحل آن لائن کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ ضلع کوڈاگو کے مشہور سیاحتی مقامات مڈیکیری اور کوشال نگر گئے تھے، جہاں بیشتر ہوٹلوں میں گیس سلنڈروں کی عدم دستیابی کے باعث کھانا پکانا بند کر دیا گیا ہے۔ ہوٹلوں کے باہر بریانی اور مچھلی کے کھانوں کے بڑے بڑے بورڈ آویزاں ہیں، تاہم مالکان کے مطابق سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے صرف مشروبات اور ہلکے ناشتے ہی پیش کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ریاستی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایل پی جی کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں ہے اور ریاست بھر میں وافر مقدار میں گیس فراہم کی جا رہی ہے، تاہم مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی زمینی اطلاعات اس دعوے سے متصادم نظر آتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایل پی جی سپلائی میں خلل برقرار رہا تو لکڑی پر انحصار مزید بڑھے گا، جس سے ماحولیاتی خدشات کے ساتھ ساتھ عوام پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑ سکتا ہے۔

Click here for report in English


Share: