تہران/لبنان، 30/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ کے باعثت پورے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں لوگوں کی جانیں تلف ہو گئی ہیں۔ اس جنگ کی شروعات تب ہوئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل، امریکی ٹھکاںوں اور خلیجی ممالک پر حملے کیے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان میں بھی جنگ کا ایک اور محاذ کھل گیا۔ اس جنگ میں ہوئی اموات کا تازہ ترین اعداد و شمار مختلف ذرائع سے سامنے آئے ہیں، لیکن اس کی آفیشل تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
امریکی انسانی حقوق کی تنظیم ’ایچ آر اے این اے‘ کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 3461 لوگ مارے جا چکے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان میں سے 1551 عام شہری تھے، جن میں کم از کم 236 بچے بھی شامل ہیں۔ امریکی انسانی حقوق کی تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار زمینی رپورٹس، مقامی رابطے، ہاسپٹل اور ایمرجنسی ذرائع، سول سوسائٹی کے نیٹورک، اوپن سورس مواد اور آفیشل بیانات پر مبنی ہیں۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی جانب سے جمعہ (27 مارچ) کو معلومات فراہم کی گئیں کہ اب تک ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1900 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں اور 20 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہ صاف نہیں ہے کہ ان اعداد و شمار میں وہ 104 لوگ شامل ہیں یا نہیں، جن کے بارے میں ایران فوج نے بتایا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ 4 مارچ کو سری لنکا کے ساحل کے پاس ایک ایرانی جنگی جہاز پر ہوئے امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔
لبنان کے افسران کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1238 لوگ ہلاک ہوئے ہیں، جن میں کم از کم 124 بچے شامل ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 مارچ کو جب لبنان کے مسلح گروہ نے اسرائیل کے ساتھ ایک نئی جنگ میں حملے شروع کیے، تب سے حزب اللہ کے 400 سے زائد جنگجو مارے گئے ہیں۔ یہ صاف نہیں ہے کہ افسران کی جانب سے بتائی گئی مرنے والوں کی تعداد میں جنگجوؤں کی تعداد شامل ہے یا نہیں۔
لبنان کی فوج کے مطابق 2 مارچ سے اب تک لبنان پر ہوئے اسرائیلی حملوں میں 8 لبنانی فوجی مارے گئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اموات جنوبی لبنان میں ہوئی ہیں۔ عراقی محکمہ صحت کے افسران کے مطابق بحران شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 100 لوگ مارے گئے ہیں۔ ان میں عام شہری، ایران سے منسلک ’شیعہ پاپولر موبلائزیشن فورسز‘ کے اراکین، امریکہ کے اتحادی ’کُرد پیشمرگا جنگجو‘ اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔