ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مردم شماری 2027 مکمل ڈیجیٹل ہوگی، 33 سوالات جاری، لیو اِن جوڑوں کو شادی شدہ ماننے کی تجویز

مردم شماری 2027 مکمل ڈیجیٹل ہوگی، 33 سوالات جاری، لیو اِن جوڑوں کو شادی شدہ ماننے کی تجویز

Mon, 30 Mar 2026 19:20:49    S O News

نئی دہلی   ، 30/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)مرکزی حکومت نے مردم شماری 2027 کے پہلے مرحلہ کے لیے 33 اہم سوالات جاری کر دیے ہیں، تاکہ لوگوں کو اس عمل کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ایف اے کیو (اکثر پوچھے جانے والے سوالات) پورٹل بھی شروع کیا گیا ہے، جہاں شہری خود اپنی معلومات درج کر سکیں گے۔ یہاں سے شہریوں کو کئی اہم جانکاریاں بھی حاصل ہو سکیں گی۔

اس بار مردم شماری میں ایک اہم تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتیونجے کمار نارائن نے نیشنل میڈیا سنٹر میں ایک پریس کانفرنس میں معلومات فراہم کراتے ہوئے کہا کہ ’’مردم شماری ایکٹ میں ایک اہم التزام، دفعہ 15 شامل ہے۔ یہ التزام بتاتا ہے کہ ذاتی معلومات کو مکمل طور سے خفیہ مانا جاتا ہے۔ اسے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت شیئر نہیں کیا جا سکتا۔ اسے کسی دیگر تنظیم کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا کردار اس پورے عمل میں مرکزی ہے۔ ان کا پورا انتظامی نظام زمینی سطح پر کام کرنے میں مصروف ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری ’ایف اے کیو‘ کے مطبق اگر کوئی لیو-اِن ریلیشن شپ میں رہ رہا جوڑا اپنے تعلقات کو مستحکم مانتا ہے تو اسے شادی شدہ جوڑے کے طور پر درج کیا جائے گا۔ یہ وضاحت مردم شماری کے ’سیلف-اینیومریشن پورٹل‘ پر دیے گئے ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ اگر بات کی جائے کہ مردم شماری کے دوران کیا کیا سوال پوچھے جائیں گے تو اس میں شامل ہیں:

مکان کا نمبر اور ڈھانچہ
فرش، دیوار اور چھت میں استعمال ہونے والا مواد
گھر کی حالت اور استعمال
خاندان میں رہنے والے افراد کی تعداد
شادی شدہ جوڑوں کی تعداد
خاندان کے سربراہ کا نام، جنس اور سماجی طبقہ
کھانے کی عادات اور استعمال ہونے والے اناج
گاڑیوں اور دیگر سہولیات کی دستیابی

واضح رہے کہ مرکزی کابینہ نے مردم شماری 2027 کے لیے 11718 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ اس میں پہلی بار ذات پر مبنی مردم شماری بھی شامل ہوگی۔ آزادی کے بعد یہ ملک کی 16ویں مردم شماری ہوگی اور شہریوں کو خود شماری (سیلف- اینیومریشن) کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ مردم شماری پہلے 2021 میں تجویز کی گئی تھی، لیکن کووڈ-19 کی وجہ سے اس عمل کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب اسے 2 مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ اپریل سے ستمبر 2026 تک مکانات کی گنتی اور دوسرا مرحلہ فروری 2027 میں آبادی کی گنتی پر مشتمل ہوگا۔

کاغذی فارم اور رجسٹروں کی جگہ اب ہاتھ سے چلنے والے آلات ’جیو-ٹیگنگ میپنگ ٹول‘ اور ایک مرکزی ’ویب بیسڈ پلیٹ فارم‘ کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ ہندوستان کی پہلی مکمل طور پر ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی۔ تقریباً 32 لاکھ فیلڈ ورکرس (شمار کنندگان اور نگراں) موبائل ڈیوائس کے ذریعہ سے کروڑوں گھروں سے آبادیاتی، سماجی اور اقتصادی اعداد و شمار جمع کریں گے۔ یہ ڈیٹا سی ایم ایم ایس سسٹم کے ذریعہ فوری طور پر منتقل، مرتب اور تصدیق کیا جا سکے گا، جس کی وجہ سے غلطیوں میں کمی آئے گی اور وقت کی بچت ہوگی۔

سرکلر کے مطابق سی ایم ایم ایس کے ذریعہ صارفین کی رجسٹریشن، تربیتی ماڈیول، ہاؤس لسٹنگ بلاک (ایچ ایل بی) کی تشکیل، سپروائزری سرکل کا تعین، شمار کنندگان کی تقرری، شناختی کارڈ جاری کرنے اور فیلڈ آپریشن کی ریئل-ٹائم نگرانی ممکن ہوگی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سی ایم ایم ایس مردم شماری کے فیلڈ آپریشن، تقرریوں، تربیت اور تقریباً حقیقی وقت میں نگرانی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ’رول بیسڈ ایکسیس کنٹرول‘ کو بھی ممکن بناتا ہے۔

مردم شماری کرنے والے شمار کنندگان (اینیومریٹر) جو عام طور پر سرکاری اساتذہ ہوتے ہیں، اپنے ٹیبلٹ یا موبائل ایپ میں گھر گھر جا کر تمام معلومات درج کریں گے۔ ہر گھر کی لوکیشن، سہولیات، خاندان کے ممبران کی تعلیم، زبان، مذہب، روزگار، معذوری، ہجرت اور دیگر ضروری تفصیلات ریکارڈ کی جائیں گی۔ ایپ میں ڈالے جانے والے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے خصوصی تکنیکی فیچر شامل کیے گئے ہیں، تاکہ کوئی ڈیٹا لیک یا گڑبڑ نہ ہو۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت اس بار عوام کو سیلف اینیومریشن یعنی خود سے معلومات درج کرنے کا اختیار بھی دے گی۔ لوگ موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے اپنی معلومات خود بھی بھر سکیں گے۔ اس سے عمل تیز ہوگا اور نظام پر بھی بوجھ کم ہوگا۔ جن لوگوں کے پاس موبائل یا انٹرنیٹ نہیں ہے، ان کے لیے فیلڈ ورکرس گھر گھر جا کر ڈیٹا درج کریں گے۔


Share: