بھٹکل، 14 جنوری (ایس او نیوز): ریاستِ کرناٹک کے مختلف اضلاع میں منگل کی شام سے شروع ہونے والی بے موسم بارش نے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ دکشن کنڑا، اڈپی، چکمنگلور، ہاسن، شموگہ، بیلگام کے علاوہ کوڈاگو (مدیکیری) کے کئی علاقوں میں بارش کے باعث زرعی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جبکہ خاص طور پر کافی، دھان، سپاری اور کالی مرچ کے کاشتکاروں کو بھاری نقصان کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔
چکمنگلور، موڈیگیرے، کوپّا، شِرنگیری، کَلَسا، کُدری مُکھ، ہورناڈو، بالے ہونّور اور اطراف کے علاقوں میں پیر کی رات اور منگل کی شام کو اچانک موسلادھار بارش ہوئی، جس کے باعث گھروں اور صحنوں میں سکھانے کے لیے پھیلائے گئے کافی کے دانے اور پھل بارش کے پانی میں بھیگ گئے، جبکہ کئی مقامات پر یہ بہہ بھی گئے۔ اس غیر متوقع بارش نے کافی کے کاشتکاروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بادل چھائے رہنے اور دھوپ کی کمی کے باعث کافی سکھانا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا تھا، ایسے میں اچانک تیز بارش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
کوڈاگو (مڈیکیری) ضلع میں بھی گزشتہ چند دنوں سے ابر آلود موسم کے ساتھ ہلکی بوندا باندی اور کہیں کہیں بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے کافی اور دھان کی فصلیں متاثر ہو رہی ہیں۔ ضلع میں عربیکا کافی کی کٹائی تقریباً 70 فیصد مکمل ہو چکی ہے، جبکہ روبسٹا کافی کی کٹائی کا آغاز حال ہی میں ہوا ہے۔ ایسے وقت میں نمی اور مسلسل ابر آلود موسم کے باعث کافی کو مناسب طریقے سے سکھانا مشکل ہو گیا ہے، جس سے فصل کے معیار متاثر ہونے اور پھپھوندی (فنگس) لگنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو افلاٹاکسن جیسی زہریلی فنگس کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جو کافی کے معیار کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
اسی طرح ہاسن ضلع کے بیلور، سکلیش پور، ہیٹّور اور آلور سمیت کئی علاقوں میں منگل کی شام کو بارش ہوئی، جہاں دھان اور کافی کی کٹائی جاری ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ کٹائی کے بعد دھان کے دانوں کو خشک کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ کافی کے پھل درختوں سے زمین پر گرنے لگے ہیں۔ بعض کسانوں نے یہ بھی شکایت کی کہ پہلے ہی جنگلی ہاتھیوں کے حملوں سے دوچار کاشتکاروں پر اب بارش نے مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
شموگہ ضلع کے تیرتہلّی اور دیگر علاقوں میں تقریباً 20 سے 45 منٹ تک مسلسل بارش ہونے سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے، جبکہ بیلگام ضلع میں بھی بے موسم بارش سے کسانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
دکشن کنڑا ضلع کے بیلتنگڈی، بنٹوال، پتور اور سولیا تعلقہ کے کئی علاقوں میں منگل کی شام اور رات کے وقت درمیانی سے اچھی خاصی بارش ہوئی۔ اڈپی ضلع کے اڈپی، منی پال، کاپ اور کارکلا تعلقہ میں بھی تقریباً ایک گھنٹے تک بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث یکشگانا سمیت کئی ثقافتی اور عوامی پروگرام متاثر ہوئے۔
محکمہ باغبانی کے ذرائع کے مطابق، موجودہ موسم میں بارش اور زیادہ نمی سپاری کی فصل میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آم اور کاجو کی فصلیں اس وقت پھول آنے کے مرحلے میں ہیں، اور مسلسل بارش و نمی کے باعث پھول جھڑنے کا خدشہ ہے، جس سے آئندہ پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
دریں اثنا، پڑوسی ریاست کیرالہ کے کاسرگوڈ ضلع میں بھی پیر کی رات اور منگل کے روز کئی مقامات پر ہلکی بارش ہوئی، جس سے صحنوں میں سکھانے کے لیے رکھی گئی سپاری اور کالی مرچ بھیگ گئی۔ تھیرواننت پورم کے موسمیاتی مرکز نے منگل کے روز ریاست کے کچھ حصوں کے لیے ایلو الرٹ بھی جاری کیا تھا۔ کاسرگوڈ میں اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ ایک دو روز کے دوران بھی بعض علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بارش سے آبپاشی کے لیے وقتی راحت ملی ہے، تاہم اس مرحلے پر بارش کھڑی فصلوں کے لیے فائدہ مند نہیں سمجھی جا رہی، جس کے باعث کسانوں میں تشویش بدستور برقرار ہے۔