ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / امریکی عدالت میں وینزویلا کے صدر مادورو کا بیان: میں بے قصور ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے

امریکی عدالت میں وینزویلا کے صدر مادورو کا بیان: میں بے قصور ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے

Tue, 06 Jan 2026 12:12:50    S O News
امریکی عدالت میں وینزویلا کے صدر مادورو کا بیان: میں بے قصور ہوں، مجھے اغوا کیا گیا ہے

نیو یارک 5 جنوری (ایس او،نیوز) وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے امریکی عدالت کے سامنے منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں اغوا کیا گیا ہے۔ مادورو نے واضح کیا کہ وہ اب بھی وینزویلا کے آئینی صدر ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے وینزویلا میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لیا، جس کے بعد دونوں کو نیویارک منتقل کیا گیا۔ پیر (5 جنوری) کو پہلی مرتبہ مادورو کو امریکی عدالت میں پیش کیا گیا۔ خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق، مادورو کو امریکی ڈسٹرکٹ جج الوِن کے ہیلرسٹین کے روبرو منشیات، دہشت گردی اور دیگر سنگین الزامات کے تحت پیش کیا گیا۔

عدالت کی کارروائی کے دوران مادورو کی اہلیہ سیلیا فلورس نے بھی کسی الزام کو تسلیم نہیں کیا۔ میاں بیوی دونوں نے نہ ضمانت کی درخواست دی اور نہ ہی رہائی کا مطالبہ کیا۔ عدالت نے مادورو کی اگلی سماعت 17 مارچ مقرر کر دی ہے۔

ادھر وینزویلا کے دارالحکومت کیراکاس میں صدر مادورو کے بیٹے نیکولس مادورو گوئیرا نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکہ نے ان کے والد کو اغوا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے والد کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ’’بین الاقوامی یکجہتی‘‘ کی اپیل کی۔ سی این این کے مطابق، مادورو گوئیرا نے کہا کہ امریکی کارروائی وینزویلا کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس طرح کے اقدامات مستقبل میں کسی بھی ملک کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی ملک کے سربراہ کا اغوا ایک معمول بن گیا تو دنیا کا کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی استحکام، انسانیت اور ممالک کی خودمختار برابری کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے صدر مادورو کے خلاف ’’نارکو ٹیررازم‘‘، منشیات اسمگلنگ اور دیگر الزامات عائد کیے ہیں، جنہیں وینزویلا حکومت نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وینزویلا حکومت نے امریکی کارروائی کو ’’فوجی جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے صدر مادورو اور سیلیا فلورس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اتوار کے روز نائب صدر ڈیلسے روڈریگز نے عبوری صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ’’باعزت تعلقات‘‘ قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔


Share: