دوحہ قطر 14 جنوری (ایس او نیوز/الجزیرہ): مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکا نے خطے میں واقع اپنے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایک امریکی عہدیدار کےحوالے سے بتایا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر حملہ کیا تو تہران خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے زیرِ استعمال قطر کے العدید ایئر بیس سے بعض اہلکاروں کو بدھ کی شام تک روانگی کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تین نامعلوم سفارتی ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم ایک سفارت کار نے واضح کیا کہ یہ کسی ہنگامی انخلاء کا حکم نہیں بلکہ محض سیکیورٹی پوزیشن میں تبدیلی (Posture Change) ہے، اور اس کی کوئی مخصوص وجہ بتائی نہیں گئی۔
رپورٹ کے مطابق قطر کی حکومت نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ العدید ایئر بیس سے بعض اہلکاروں کی واپسی موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں کی جا رہی ہے۔ قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس کے مطابق دوحہ حکومت اپنے شہریوں اور ملک میں مقیم غیر ملکیوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے، جبکہ اہم تنصیبات اور فوجی مراکز کے تحفظ کے لیے بھی عملی اقدامات جاری ہیں۔
ادھر دوحہ میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب برطانیہ بھی قطر کے اسی فوجی اڈے پر تعینات اپنے اہلکاروں کی تعداد میں کمی کر رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور اخبار آئی کے مطابق برطانیہ کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر فوجی تعیناتی اور نقل و حرکت کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کیا جاتا، تاہم اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدامات ہمیشہ اختیار کیے جاتے ہیں، جن میں ضرورت پڑنے پر اہلکاروں کو واپس بلانا بھی شامل ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔