ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو میں منعقدہ ورلڈ فشریز ڈے کے موقع پر حکومتِ کرناٹک کا بڑا فیصلہ: ماہی گیروں کی امدادی رقم 6 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے

بنگلورو میں منعقدہ ورلڈ فشریز ڈے کے موقع پر حکومتِ کرناٹک کا بڑا فیصلہ: ماہی گیروں کی امدادی رقم 6 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے

Sun, 23 Nov 2025 01:21:00    S O News
بنگلورو میں منعقدہ ورلڈ فشریز ڈے کے موقع پر حکومتِ کرناٹک کا بڑا فیصلہ: ماہی گیروں کی امدادی رقم 6 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے

بنگلورو 22/نومبر (ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے ماہی گیروں کے لیے تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے حادثات پیش آنے کی صورت میں دی جانے والی ریلیف فنڈ کی رقم 6 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی ہے۔ اس بات کا اعلان وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ہیبّال کے ویٹرنری کالج احاطے میں "ورلڈ فشرمینس ڈے" اور "مچھلی میلہ 2025" کی ریاستی سطح کے پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے فشریز شعبے کی ترقی، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور ساحلی علاقوں کے لیے کئی نئی اسکیموں کا بھی اعلان کیا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ریاست نے 264 معاملات میں مجموعی طور پر 9.48 کروڑ روپے کی امداد جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری نہایت دشوار پیشہ ہے، جس پر ریاست کے دس لاکھ سے زیادہ لوگ منحصر ہیں۔ مالی سال 2024–25 میں ریاست میں 9.63 لاکھ میٹرک ٹن مچھلی کی پیداوار درج کی گئی، جبکہ اندرونی پانیوں کی پیداوار میں ریاست ساتویں، ساحلی پیداوار میں پانچویں اور مجموعی پیداوار میں تیسرے نمبر پر ہے۔

سدارامیا نے بتایا کہ روایتی ماہی گیروں کے لیے صنعتی تیل 35 روپے فی لیٹر رعایتی نرخ پر فراہم کیا جا رہا ہے اور میکانائزڈ کشتیوں کے لیے سالانہ ڈیزل کی حد 1.5 لاکھ کلو لیٹر سے بڑھا کر 2 لاکھ کلو لیٹر کر دی گئی ہے۔ حکومت نے فشریز سیکٹر کی جامع ترقی کے لیے 3,000 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جو ان کے مطابق ’’ریاست کے نیلے معاشی مستقبل میں ایک بڑی سرمایہ کاری‘‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی/ایس ٹی سے تعلق رکھنے والے مچھلی فروشوں کے لیے 4 پہیہ گاڑی کی خریداری پر 3 لاکھ روپے تک سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ’متسیا سنجیونی‘ اسکیم کے تحت خواتین کے گروپوں کو تربیت اور فِنگر لنگس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ تقریب میں مہلوک ماہی گیروں کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے کے امدادی چیکس بھی دیے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ریاست ایک ماہی گیری یونیورسٹی قائم کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اپنے خطاب میں ماہی گیر برادری کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ماہی گیری کے لیے ہمت، خود اعتمادی اور برداشت بنیادی شرطیں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی تین دن یا پورا ہفتہ بھی گزر جاتا ہے مگر ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی، اس لیے وہ ماہی گیروں کی سخت محنت اور چیلنجز کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ شیوکمار نے بتایا کہ حکومت نے 10 ہزار سے زیادہ جھیلوں کو بجلی فراہم کر کے انہیں دوبارہ بھرنے کا کام انجام دیا ہے اور مچھلی پیداوار کو بڑھانے کے لیے نئی ٹورزم پالیسی پر غور ہو رہا ہے۔

ماہی گیری کے وزیر منکال ایس ویدیا نے بتایا کہ فشریز محکمہ کے لیے 3,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور بے گھر ماہی گیروں کے لیے "متیہ آشرَے" اسکیم کے تحت 10 ہزار گھروں کی تعمیر کے لیے مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ریاست کی پہلی سمندری ایمبولینس (Sea Ambulance) کے آغاز کا بھی اعلان کیا، جس پر 7 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ آگے کہا کہ اس کے لئے ٹینڈر کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

ویدیا نے کہا کہ مچھلی پکڑنے پر پابندی کے دوران امداد کو 1,500 روپے سے بڑھا کر 3,000 روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ NABARD فنڈ کے تحت 30 کروڑ روپے سے خصوصی "فشریز روڈز" تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ماہی گیروں کے بچوں کو اسکالرشپ، لائف جیکٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، اور نئی جامع فشریز پالیسی کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔

مچھلی میلے میں 70 سے زائد اسٹالز لگائے گئے، جن میں آرائشی مچھلیاں، ماہی گیری کی مصنوعات اور مختلف اقسام کے فش فوڈ موجود تھے۔ تقریب میں اعلیٰ حکام، محکمہ جاتی عملہ اور بڑی تعداد میں ماہی گیری کے شوقین افراد نے شرکت کی۔


Share: