میسورو، 19 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)وزیراعلیٰ کرناٹک سدارامیا نے ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی اور آئینی اقدار پر حملوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے سوشلسٹ اور سیکولر کردار کا تحفظ نوجوانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ وہ جمعہ کو میسورو میں منعقدہ ’’یوا شکتی پرتگیہ 2025‘‘ کے تحت یوتھ کانگریس کے عہدیداروں کی حلف برداری تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سنگھ پریوار کی کوشش ہے کہ آئین سے ’’سوشلسٹ‘‘ اور ’’سیکولر‘‘ جیسے الفاظ کو نکال دیا جائے، اور یہ سب بی جے پی کی سرپرستی میں ہو رہا ہے، جو اپنے قیام سے ہی سماجی انصاف کی مخالف رہی ہے۔ لیکن ملک کے باشعور نوجوان اس نظریاتی حملے کا مقابلہ نظریاتی شعور اور اصولوں سے کریں گے۔
سدارامیا نے کہا کہ بی جے پی کے پاس کوئی ایسا نظریہ نہیں جو ہندوستانی سماج کو جوڑ سکے، ان کی سوچ صرف فرقہ وارانہ بنیادوں پر ملک کو تقسیم کرنے کی ہے۔ انہوں نے جنتا دل (سیکولر) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ پارٹی نظریاتی طور پر بے سمت ہے اور صرف کچھ علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ کانگریس نے ہی منڈل کمیشن کی سفارشات نافذ کر کے سماجی انصاف کی بنیاد رکھی اور تعلیمی و ملازمتوں میں تحفظات دیے۔ خواتین کے لیے تحفظات کے قانون کو بھی کانگریس نے ہی نافذ کیا، راجیو گاندھی نے 35 فیصد اور سونیا گاندھی نے اسے 50 فیصد تک لے جانے کی کوشش کی۔
سدارامیا نے کہا کہ آر ایس ایس کی بنیاد 1925 میں رکھی گئی، لیکن نہ ہی ہیگڈیوار اور نہ ہی دیگر آر ایس ایس رہنما آزادی کی تحریک میں شریک ہوئے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس سچائی کو جانیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں، کیونکہ بی جے پی کو ملک کی آزادی اور آئین سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا ’’سب کا ساتھ‘‘ صرف ایک نعرہ ہے، جبکہ پارلیمنٹ میں اس کے 240 ارکان میں ایک بھی اقلیتی طبقہ سے نہیں ہے۔ نہ یہ لوگ ڈاکٹر امبیڈکر کو مانتے ہیں، نہ ان کے آئین کو۔ سدارامیا نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ شخصیات کے پیچھے نہیں بلکہ اصولوں کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ نظریہ ہی اصل رہنما ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود اپنی ماں کو بچوں کے لیے بھیک مانگتے دیکھا ہے، جس کے بعد انہوں نے ’’انّا بھاگیا‘‘ جیسی اسکیم شروع کی تاکہ کوئی بھی بھوک سے مجبور نہ ہو۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قومی غذائی سلامتی قانون ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے نافذ کیا تھا۔
بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ میسورو میں مہارانی کالج، اسپتال اور جئے دیوا اسپتال جیسے تمام ترقیاتی منصوبے کانگریس حکومت کے دور میں مکمل ہوئے۔ بی جے پی نے یہاں کچھ بھی نہیں کیا، صرف دعوے کیے۔ انہوں نے بی جے پی کو چیلنج کیا کہ وہ کھلے فورم پر ان دعوؤں پر بحث کرے، جس میں وہ خود شریک ہوں گے۔ مگر، ان کے مطابق، بی جے پی کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس لیے وہ اس چیلنج کو قبول نہیں کرے گی۔