بھٹکل،21 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک حکومت کی جانب سے منگلورو میں 18 ستمبر کو منعقدہ خصوصی کابینہ میٹنگ میں اُترکنڑا ضلع کے لیے بندرگاہ، شپ بلڈنگ، سیاحت، ہوائی رابطہ، ماہی گیری اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق متعدد اہم منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان میں بھٹکل تعلقہ کے دو جزیروں کو Eco-Tourism کے لیے تیار کرنے، پڑوسی ہونّاور تعلقہ کے منکی میں 6,925 کروڑ روپے کی لاگت سے ملٹی پرپز پورٹ اور شپ بلڈنگ سینٹر قائم کرنے اور کاروار ایئرپورٹ کے رن وے کو 3,250 میٹر تک توسیع دینے کے منصوبے نمایاں ہیں۔
بھٹکل کے دو جزائر Eco-Tourism منصوبے میں شامل
اُتر کنڑا کے کاروار، بھٹکل اور انکولہ تعلقوں کے سات جزائر کو ماحول دوست سیاحتی مقامات کے طور پر ترقی دینے کے لیے 307.71 کروڑ روپے کے منصوبے کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ PPP ماڈل کے تحت ڈیزائن، بیلڈ، فائنانس، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر یعنی DBFOT کی بنیاد پر نافذ کیا جائے گا اور متعلقہ قانونی منظوریوں کے بعد اس کے لیے 30 سالہ لیز کی تجویز ہے۔
اطلاع کے مطابق ان سات جزائرمیں مدھیالنگڈھ، دیوگڈھ، ہاگ، مونگیرگُڈا، کیری کنڈ، انکانے چگّوڈو اور کُرُم گڈھ شامل ہیں۔ ان میں ہاگ اور کیری کنڈ جزیرے بھٹکل تعلقہ میں واقع ہیں، جبکہ دیگر پانچ جزائر کارواراورانکولہ تعلقوں میں ہیں۔ ساتوں جزائر تقریباً 59 ایکڑ 31 گنٹے رقبے پر محیط ہیں۔
ہاگ اور کیری کنڈ جزائر کی ترقی سے بھٹکل میں Eco-Tourism، قدرتی ماحول اور ایڈونچر ٹورزم سے متعلق سرگرمیوں کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان دونوں جزائر کو اس سے قبل بھی کرناٹک میری ٹائم بورڈ نے اُترکنڑا کے سات جزائر کے ساتھ سیاحتی ترقی کے لیے شناخت کیا تھا۔
منکی میں 6,925 کروڑ کا پورٹ اور شپ بلڈنگ سینٹر
اُترکنڑا کے لیے کابینہ کا سب سے بڑا صنعتی منصوبہ ہونّاور تعلقہ کے منکی پورٹ سے متعلق ہے۔ یہاں 6,925 کروڑ روپے کی لاگت سے 15 ملین ٹن سالانہ گنجائش والا ملٹی پرپز پورٹ اور شپ بلڈنگ سینٹر قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ منصوبہ PPP ماڈل کے تحت DBFOT بنیاد پر تیار کیا جائے گا۔
بھٹکل سے بمشکل 25 کلو میٹر دورمنکی پورٹ منصوبے سے حکومت کے تخمینے کے مطابق تقریباً 44,800 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، جبکہ ریاستی معیشت کو تقریباً 28 ہزار کروڑ روپے کا اقتصادی فروغ ملنے اور حکومت کو تقریباً 2,902.69 کروڑ روپے کی یقینی آمدنی ہونے کی توقع ہے۔
منکی پورٹ کی تعمیراوراس سے وابستہ شپ بلڈنگ سرگرمیوں کے عملی شکل اختیار کرنے سے اُتر کنڑا کے ساحلی علاقوں میں صنعتی، لاجسٹک، نقل و حمل اور متعلقہ کاروباری سرگرمیوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
کاروار ایئرپورٹ کا رن وے 3,250 میٹر ہوگا
کاروار ایئرپورٹ کے توسیعی منصوبے کی انتظامی منظوری میں ترمیم کرتے ہوئے اس کی لاگت 98.24 کروڑ روپے سے بڑھا کر 250.05 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت موجودہ 2,000 میٹر رن وے کو بڑھا کر 3,250 میٹر کرنے کی تجویز ہے، تاکہ بڑے طیاروں، بشمول اے 320، کی آمد و رفت ممکن ہوسکے۔ اس توسیع کے لیے انڈین نیوی سمیت متعلقہ منظوریوں کی ضرورت ہوگی۔
ساحلی فیری سے بھٹکل اور ساحلی رابطے کو فائدہ
ساحلی اضلاع کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کے لیے 343 کلومیٹر کے کوسٹل پسینجر فیری سسٹم کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔ اس نظام کے تحت ساحل کے 12 مراکز کو جوڑنے کی تجویز ہے، جس میں منگلورو سے مرونتے، مرڈیشور، گوکرن اور کاروار کی سمت کے ساحلی مراکز شامل ہوں گے۔اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اُتر کنڑا کے ساحلی علاقوں کو ریاست کے دیگر ساحلی مراکز سے آبی راستے کے ذریعے جوڑنے اور سیاحتی آمدورفت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہی گیری اور ساحلی معیشت
کابینہ نے دکشن کنڑا، اُڈپی اور اُتر کنڑا میں ماہی گیری سے متعلق رابطہ سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے لیے 20 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ اس کے علاوہ تینوں ساحلی اضلاع کے ساحلی علاقوں کو اسپیشل مرین زون قرار دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد ماہی گیری سے متعلق اقتصادی سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے۔
اُترکنڑا میں ماہی گیری سے وابستہ علاقوں کے لیے یہ فیصلے بندرگاہ اور سیاحتی منصوبوں کے ساتھ ساحلی معیشت کے ایک دوسرے اہم شعبے کو بھی ترقیاتی پیکیج میں شامل کرتے ہیں۔
اُترکنڑا میں 17 کرناٹک پبلک اسکول
تعلیمی بنیادی ڈھانچے کے تحت ساحلی علاقے میں 49 کرناٹک پبلک اسکول تیار کرنے کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے۔ ان میں اُتر کنڑا کے 17 اسکول شامل ہیں۔ تین ساحلی اضلاع کے 49 اسکولوں کے لیے مجموعی تخمینہ 245 کروڑ روپے ہے۔
مجموعی طور پر اُتر کنڑا کے لیے نئی سمت
کابینہ کے فیصلوں میں اُترکنڑا کے لیے ایک طرف منکی پورٹ اور شپ بلڈنگ جیسا بڑا صنعتی منصوبہ ہے، تو دوسری طرف بھٹکل سمیت ضلع کے سات جزائر کی Eco-Tourism ترقی، کاروار ایئرپورٹ کی توسیع، ساحلی آبی رابطہ، ماہی گیری اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں۔ اگر یہ منصوبے طے شدہ مراحل اور ضروری قانونی منظوریوں کے بعد عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو بھٹکل اور اُتر کنڑا میں سیاحت، بندرگاہ، شپ بلڈنگ، ماہی گیری، نقل و حمل اور متعلقہ کاروباری شعبوں میں نئی سرگرمیوں کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں.