ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بجٹ 2026: مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر کو ترقی کا انجن بنانے کا عزم

بجٹ 2026: مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر کو ترقی کا انجن بنانے کا عزم

Sun, 01 Feb 2026 16:57:49    S O News

نئی دہلی  ، یکم فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار کو پارلیمنٹ میں مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ءکے لیے۵۳۴۷۳۱۵؍کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں معیشت کو عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ’’وِکسِت بھارت‘‘ کی سمت بڑھنے کے لیے مینوفیکچرنگ، اقتصادی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ۱۷۱۴۵۲۳؍کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کا ہدف رکھا گیا ہے۔

بجٹ میں انفرادی انکم ٹیکس کی شرحوں میں کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے، لیکن صنعتوں پر کم از کم متبادل انکم ٹیکس (ایم اے ٹی) کی شرح کو۱۵؍ فیصد سے گھٹا کر ۱۴؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ بجٹ میں سرمایہ کاروں اور درآمد کنندگان کے لیے عمل اور تعمیل کو آسان بنانے کے تفصیلی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔  وزیر خزانہ نے ایک گھنٹہ ۲۵؍ منٹ کے اپنے خطاب میں کہا کہ سرمایہ جاتی اخراجات بڑھانے کے باوجود مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے ۳ء۴؍ فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف ہے۔ موجودہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ بجٹ کے اندازے ۵ء۴؍ فیصد کے مقابلے میں  ۴ء۴؍فیصد رہا ہے۔ بجٹ کے بعد شیئر بازاروں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی اور ایک وقت بی ایس ای کا سینسیکس ۲۳۰۰؍ پوائنٹ تک گر گیا، لیکن بعد میں اس نے کافی حد تک واپسی کی۔

وزیر خزانہ نے قرض جی ڈی پی تناسب کو ۳۱۔۲۰۳۰ء تک ۵۰؍ فیصد کے قریب رکھنے کا ہدف بتایا، جو۲۷۔ ۲۰۲۶ء میں ۵ء۵؍ فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری قرض کم ہونے سے ترجیحی شعبوں کے لیے قرض کی دستیابی بڑھے گی، حکومت پر سود کی ادائیگی کم ہوگی اور پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔  انہوں نے۱۶؍ویں مالیاتی کمیشن کی رپورٹ کو قبول کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مرکز کی تقسیم پذیر آمدنی میں ریاستوں کا حصہ ۴۱؍ فیصد برقرار رہے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی چیلنجوں کے باوجود ہندوستان کی شرح نمو سات فیصد کے دائرے میں ہے، جس سے حکومت ترقی اور فلاح کے لیے وسائل اکٹھے کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو عالمی منڈی سے جڑا رہنا ہے تاکہ ملک برآمدی منڈی، غیر ملکی سرمایہ اور ٹیکنالوجی کا فائدہ حاصل کرتا رہے۔

انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد لوگوں کی امنگوں کو حقیقت میں بدلنا ہے اور اقتصادی ترقی کو نوجوانوں، کسانوں، غریبوں، خواتین اور دیگر ضرورت مند طبقات تک پہنچانا ہے۔ وزیر خزانہ نے بجٹ کو تین فرائض پر مرکوز بتایاکہ  پہلا فرض اقتصادی ترقی کو بڑھانا، دوسرا فرض عوام کو بااختیار بنا کر ان کی امنگیں پوری کرنا اور تیسرا فرض ’’سب کا ساتھ سب کا وِکاس‘‘ کے مطابق سماجی فلاحی اسکیموں کو آگے بڑھانا۔

انہوں نے کہا کہ اگست میں وزیراعظم کے یومِ آزادی خطاب کے بعد سے جی ایس ٹی سمیت ۳۵۰؍ سے زیادہ اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بایوفارما، سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانک کمپوننٹ، نایاب معدنیات اور کپڑا جیسے شعبوں کو فروغ دینے کے لیے نئی پہلوں کا اعلان کیا۔وزیر خزانہ نے ۲۰۰؍سے زیادہ روایتی صنعتی کلسٹروں کو دوبارہ زندہ کرنے اور چار نئے اقتصادی زونز کے قیام کی تجویز دی۔ ساتھ ہی دو مقامات پر ہائی ٹیک ٹول روم قائم کرنے کا اعلان کیا، جو کم لاگت پر اعلیٰ درستگی والے پرزوں کا ڈیزائن، جانچ اور تیاری کریں گے۔  انہوں نے ٹائر۲؍ اور ٹائر۳؍ شہروں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مغربی بنگال کے دانکونی سے گجرات کے سورت تک نیا مال برداری کوریڈور اور بنارس و پٹنہ میں گھریلو آبی گزرگاہوں کے لیے جہاز سازی کی سہولتوں کا اعلان کیا۔


Share: