نئی دہلی ، 23/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانےکیلئے دیئے گئے نوٹس میں ان پرایگزیکٹیو(عاملہ یعنی مودی سرکار) کے’’ربر اسٹامپ‘‘ کی طرح کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں ایک پریس کانفرنس میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے تعلق سے ان کی بدزبانی کا بھی حوالہ دیاگیاہے۔
چیف الیکشن کمشنر کو عہدہ سے ہٹانے کیلئے ان کے خلاف تحریک مواخذہ پر اسی ہفتے بحث اور ووٹنگ کی امید کی جارہی ہے ۔ لوک سبھا کے ۱۳۰؍ اور راجیہ سبھا کے ۶۰؍ اراکین کے ذریعہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف دیئے گئے نوٹس میں ان کے خلاف تحریک مواخذہ کی وکالت کی گئی ہے۔اپوزیشن نے انہیں ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کے ذریعے’’بڑی تعداد میں لوگوں کو حق رائے دہی سے محرومی‘‘کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا ہے۔۱۲؍ مارچ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جمع کرائے گئے ایک سے زائد نوٹس میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ’’ثابت شدہ بدسلوکی‘‘کی بنیاد پر ۷؍الزامات عائد کئے گئے ہیں اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان امیدوں کے بیچ کہ حکومت اسی ہفتے ان نوٹس پر دونوں ایوانوں میں بحث کروائے گی، ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا لیڈر ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ ’’اگر ان نوٹس پر مرکزی حکومت نے غور نہ کیا تو عاملہ (حکومت )اور چیف الیکشن کمشنر کی ملی بھگت کے تعلق سے شکوک و شبہات اور گہرے ہوجائیں گے۔‘‘ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ الیکشن کے دوران’’تمام پارٹیوں کیلئے یکساں مواقع‘‘ فراہم کرنا ’’انتخابی جمہوریت کی روح‘‘ اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے، اپوزیشن نے اس میں گیانیش کمار کو ناکام قرار دیا ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر پر’’آزادی اور آئین سے وفاداری برقرار رکھنے میں ناکامی‘‘ اور’’عاملہ کے زیر اثر کام کرنے‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ان کی ’’ثابت شدہ بدسلوکی‘‘ قرار دیا ہے۔
اپوزیشن کے الزامات میں بطور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی تقرری کی خامی بھی شامل ہے۔ اسکے علاوہ ۱۷؍اگست ۲۰۲۵ء کی ان کی ’’جانبدارانہ‘‘ پریس کانفرنس جس میں انہوں نے راہل گاندھی کو نشانہ بنایا، اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے اراکین کے ساتھ ’’امتیازی سلوک‘‘، تحقیقات میں’’ رخنہ اندازی ‘‘ ، ’’ شفافیت‘‘ کے فقدان اور’’حکمراں محاذ کے سیاسی مقاصد کے مطابق ایس آئی آر‘‘ کے اہتمام وانعقاد کو گیانیش کمار کے خلاف عائد کئے گئے الزامات میں اولیت حاصل ہے۔
اپوزیشن نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کا یہ موقف کہ ایس آئی آر یعنی انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کو رائے دہندگان کی شہریت کی تصدیق سے جوڑ کر دیکھا جارہاہےکہ وہ پوری طرح حکومت کے ملک گیر این آر سی نافذ کرنے کے منصوبے سے میل کھاتا ہے۔
نوٹس میں الزام لگایا گیا ہےکہ چیف الیکشن کمشنر نے مؤثر طریقے سے الیکشن کمیشن کو ایک غیر جانبدار انتخابی ادارے سے ایگزیکٹیو کے سیاسی ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے والے آلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی الزام ہےکہ الیکشن کمشنر نے کمیشن کو غیر جانبدارانہ انتخاب کے ذمہ دار ادارے سے شہریت کا تعین کرنے والے ٹربیونل میں بھی تبدیل کر دیا ہے۔
نوٹس میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہےکہ بہار میں ایس آئی آر کی مشق کا اعلان گزشتہ سال اسمبلی انتخابات سے صرف ۵؍ ماہ قبل کیا گیا تھا۔ اس میں بھی جو اضافی دستاویزات طلب کئے گئے تھے اس کا مقصدمعاشرے کے کمزور طبقات کو منظم طریقے سے حق رائے دہی سے محروم کرنا تھا ۔اپوزیشن نے بہار میں۶۵؍ لاکھ رائے دہندگان کے ناموں کے حذف ہونے کابھی حوالہ دیا اور ان اعدادوشمار کو حیران کن قراردیا جو ریاست کے ووٹروں کے ایک اہم تناسب کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے بہار میںاین ڈی اے کی جیت کا راستہ صاف ہوا اور یہی مشق ریاست میں اپوزیشن کے صفائے کا سبب بنی ۔
نوٹس میں اگست۲۰۲۵ء میں ایک پریس کانفرنس میں سی ای سی کے ذریعہ گاندھی کو دیے گئے الٹی میٹم کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے ووٹ چوری کے الزامات کے درمیان گیانیش کمار نے اپوزیشن لیڈر سے کہا تھا کہ وہ یا تو معافی مانگیں یا اپنے دعوؤں کی حمایت میں ایک دستخط شدہ حلف نامہ فراہم کریں۔
نوٹس میں کرناٹک کے الند اور مہادیوپورہ میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کے الزامات کا بھی ذکر ہے۔ نوٹس پر تقریباً۱۳۰؍ لوک سبھا اور۶۰؍ راجیہ سبھا ممبران کے دستخط ہیں۔ ذرائع کے مطابق، نوٹس میں گیانیش کمار کے خلاف ۷؍الزامات کی فہرست دی گئی ہے، جس میں عہدے میں رہتے ہوئے جانبدارانہ رویہ ،جان بوجھ کر انتخابی دھوکہ دہی کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا، اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کر نے سے متعلق الزامات شامل ہیں۔واضح رہےکہ چیف الیکشن کمیشن کے خلاف مواخذہ کی تحریک پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی جاسکتی ہے جس کیلئےموجود اراکین کی دوتہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔