بنگلورو ، 4/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) انڈیا اتحاد میں شامل مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف 5 نومبر کو بنگلورو کے فریڈم پارک میں ایک بڑے احتجاجی جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج کے ذریعے ایس آئی آر کی منسوخی، چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ اور انتخابی کمشنر کی تقرری کے عمل کو جمہوری و شفاف بنانے کے مطالبات اٹھائے جائیں گے۔
کے پی سی سی دفتر میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے پی سی سی صدر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی جانب سے ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف منعقدہ احتجاج کے تسلسل میں بنگلورو میں یہ ریاست گیر تحریک شروع کی جارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی میں انڈیا اتحاد کے قائدین نے فیصلہ کیا ہے کہ اس احتجاج کو ملک بھر میں تعلقہ اور بلاک سطح تک وسعت دی جائے۔ اسی سلسلے میں کرناٹک میں پہلے بنگلورو میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد ریاست کے مختلف اضلاع اور تعلقہ جات میں بھی مظاہرے کیے جائیں گے۔
بی کے ہری پرساد نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس آئینی اداروں کے مبینہ غلط استعمال کے ذریعے ملک کے جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ تک یہ جدوجہد جاری رہے گی اور انڈیا اتحاد اس تحریک کو ریاست کے تمام حصوں تک پہنچائے گا۔
سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری کے پرکاش نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اتحاد کے اہم مطالبات میں ایس آئی آر کی منسوخی، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقۂ کار کو جمہوری بنانا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا عمل انجام دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر کو مستقل قانونی استثنیٰ فراہم کرنے والے قانون کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔
کے پرکاش نے کہا کہ 5 نومبر کا احتجاج محض ایک دن کی سرگرمی نہیں ہوگا بلکہ اس کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں تحریک کو وسعت دی جائے گی۔ جمہوری نظام اور آئینی اداروں کے تحفظ کی ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے اور انڈیا اتحاد نے اس جدوجہد کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو آمرانہ طرزِ حکمرانی کی طرف لے جانے اور فرقہ وارانہ ہندوتوا پر مبنی ریاست کے قیام کی کوششوں کی مخالفت میں عوام کے سامنے واضح پیغام پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس احتجاج میں انڈیا اتحاد کی تمام متعلقہ جماعتیں حصہ لیں گی۔
پریس کانفرنس میں سی پی آئی (ایم) کے ساتھی سندریش، فارورڈ بلاک کے شیوشنکر، علی، سی پی آئی (ایم ایل) کے کلفٹن ڈی روزاریو اور کے پی سی سی کے شعبۂ میڈیا و کمیونیکیشن کے صدر رمیش بابو بھی موجود تھے۔