بنگلورو،2/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاست کے سرخ و زرد پرچم کو باضابطہ طور پر سرکاری ریاستی پرچم کا درجہ دینے کے لیے حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے اور اس معاملے پر بیلگاوی میں منعقد ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی پرچم کے وقار اور اس سے متعلق ضابطوں کو برقرار رکھتے ہوئے کنڑ پرچم کے استعمال، قانونی حیثیت اور تحفظ کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
اتوار کے روز بنگلورو کے کنٹیروا اسٹیڈیم میں منعقدہ 71ویں کنڑا راجیوتسوا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے اس سے قبل بھی کابینہ میں فیصلہ کرتے ہوئے کنڑ پرچم کو سرکاری شناخت دینے کے لیے مرکزی حکومت کو تجویز روانہ کی تھی، تاہم اب تک اس کی منظوری حاصل نہیں ہوسکی۔ اس پس منظر میں حال ہی میں قانونی ماہرین سے مشاورت کی گئی ہے اور مزید تبادلۂ خیال کے بعد اس معاملے کو دوبارہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے قومی پرچم کے ساتھ کنڑ اپرچم لہرانے کا راستہ ہموار کیا جائے۔ اس سلسلے میں صرف وزیر اعلیٰ کے دفتر تک محدود رہنے کے بجائے ودھان سودھا میں بھی پرچم کے معاملے پر عوامی اور ارکانِ اسمبلی کی سطح پر بحث کا موقع فراہم کیا جائے گا، تاکہ سرمائی اجلاس میں اس سلسلے میں ایک واضح لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سرخ و زرد پرچم کنڑ عوام کے جذبات، ریاست کی شناخت، زبان، تہذیب، روایات، مذہبی ہم آہنگی، مساوات اور امن کے پیغام کی علامت ہے۔ حکومت اس پرچم کو مناسب قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ 71ویں کنڑا راجیوتسوا سے آئندہ ایک سال تک ریاست بھر میں کنڑ زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ تمام سرکاری دفاتر کے علاوہ حکومت کے تعاون سے چلنے والے اداروں میں بھی کنڑ پرچم لہرانے کو لازمی بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔ نجی اداروں میں بھی کنڑ پرچم لہرانے کی ترغیب دینے اور اس سلسلے میں اسی ماہ حکومتی حکم نامہ جاری کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کنڑا ہماری سانس، ہماری شناخت اور ہمارا پیشہ ہے۔ زبان کسی بھی معاشرے کی تہذیب، ثقافت اور علم کی عکاس ہوتی ہے۔ مادری زبان میں حاصل کیا جانے والا علم زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم کنڑ باشندوں کی جانب سے زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے قائم کردہ تنظیموں کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ زبان محفوظ رہے گی تو ریاست کی تہذیب اور شناخت بھی برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ کنڑا زبان کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال قدیم ہے اور اسے کلاسیکی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اس زبان کو آٹھ گیان پیٹھ ایوارڈ حاصل ہوئے ہیں، جو اس کے ادبی اور تہذیبی سرمایہ کی عظمت کا ثبوت ہیں۔ پمپا، رنّا، جَنّا، کمار ویاس، کنک داس، پُرندر داس، سروگیہ اور بسونا جیسے عظیم ادیبوں اور سنتوں کے علاوہ کویمپو، ڈی آر بینڈرے، شیو رام کارنت، گوکاک، یو آر اننت مورتی، تیجسوی، سدّلنگیا اور کے ایس نثار احمد جیسی ممتاز شخصیات نے کنڑ زبان و ادب کو عالمی سطح پر شناخت عطا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنڑ اصرف سرکاری زبان بن کر نہ رہ جائے بلکہ ہر شہری کے دل کی زبان بننی چاہیے۔ بچوں کو ابتدا ہی سے مادری زبان سے محبت اور اسے روزمرہ زندگی میں استعمال کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ ڈیجیٹل دور میں دیگر زبانوں کے ساتھ کنڑ کو بھی ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع ابلاغ میں فروغ دینا ضروری ہے۔
سرکاری اسکولوں کی ترقی سے متعلق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سرکاری اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے لیے متعدد اقدامات کررہی ہے۔ چھٹی جماعت سے مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت شروع کی جائے گی، جسے بارہویں جماعت تک جاری رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ سرکاری اسکولوں کی ترقی کے لیے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) فنڈز استعمال کیے جارہے ہیں اور کرناٹک پبلک اسکولوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا حکم جاری کیا جاچکا ہے اور 25,498 دو لسانی اسکول شروع کیے گئے ہیں۔ 250 سرکاری اسکولوں میں سائنس لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں، جبکہ چھٹی جماعت سے ہنرمندی پر مبنی تعلیم کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں میں پہلی سے دسویں جماعت اور پی یو سی تک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں 7 فیصد تحفظات فراہم کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد دیہی طلبہ کے لیے انجینئرنگ اور میڈیکل جیسے پیشہ ورانہ کورسوں میں داخلے کے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت سطح کے سرکاری اسکولوں کو شہری علاقوں کے اسکولوں کے معیار کے مطابق ترقی دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ شہری علاقوں کے طلبہ کو دیہی زندگی، زراعت اور گاؤں کی تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے ’گرام انوبھوا‘ پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ اس کے تحت بنگلورو اور ریاست کی 10 سٹی کارپوریشنوں کے حدود میں واقع اسکولوں کے طلبہ کو دو سے تین دن گاؤں میں قیام کا موقع فراہم کیا جائے گا، تاکہ وہ کھیتی باڑی، باغبانی، دیہی طرزِ زندگی اور مقامی ثقافت کو قریب سے سمجھ سکیں۔
کھیلوں کے شعبے میں حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے کھلاڑیوں نے ایشیائی کھیلوں میں آٹھ تمغے حاصل کیے ہیں۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والوں کو ایک کروڑ روپے، سلور میڈل جیتنے والوں کو 75 لاکھ روپے اور برونز میڈل حاصل کرنے والوں کو 50 لاکھ روپے نقد انعام دیا گیا ہے۔ ایشیائی کھیلوں میں حصہ لینے والے 20 کھلاڑیوں کو فی کس پانچ لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ پیرالمپکس کی تیاری کرنے والے کھلاڑیوں کو فی کس 10 لاکھ روپے کی امداد دی جارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 2 فیصد اور پولیس و محکمہ جنگلات میں 3 فیصد تحفظات فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ کھیل، فنون، ادب اور دیگر سرگرمیوں میں بھی دلچسپی پیدا کریں اور اولمپکس میں ملک کی نمائندگی کو اپنا مقصد بنائیں۔
نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں 10 ہزار ’بھارت جوڑو یوتھ سنگھ‘ قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ ان تنظیموں میں 16 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا اور ہر تنظیم کو سالانہ 10 لاکھ روپے کی امداد فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ ان تنظیموں کے ذریعے نوجوانوں میں کھیل، فن، ثقافت اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں 72 ہزار سرکاری ملازمتوں کو پُر کرنے کے احکامات جاری کیے جاچکے ہیں اور 66 ہزار روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے یُووانِدھی اسکیم کے ساتھ نجی شعبے میں ملازمتوں کے مواقع تلاش کرنے کی غرض سے ’ایمپلائمنٹ سیتو‘ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 100 آئی ٹی آئی اداروں کو ممتاز صنعتی اداروں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک کو منشیات سے پاک ریاست بنانے اور 2047 تک ریاست کی مجموعی ترقی کے لیے علاقائی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ آئندہ 20 برسوں میں پانچ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
کسانوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کے حالات کے باعث کسان مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کی معاشی حالت بہتر بنانے اور انہیں تقویت فراہم کرنے کے مقصد سے دودھ کی قیمت میں فی لیٹر آٹھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس میں سے سات روپے کسانوں کو فراہم کیے جانے کی بات کہی گئی۔ اس اقدام سے تقریباً 11 لاکھ کسان خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ کی سڑک رابطہ اسکیم کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور ضلع و تعلقہ پنچایتوں کے تحت 20 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کو اختیار کرنے کی اسکیم بھی شروع کی گئی ہے، جس کے تحت 11 میڈیکل کالجوں نے تعاون کے لیے معاہدے کیے ہیں۔ محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے 100 نئی ایمبولینسیں بھی عوام کے لیے وقف کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ 1995 کے بعد قائم ہونے والے سرکاری امداد یافتہ کنڑ میڈیم اسکولوں کو گرانٹ فراہم کرنے کے معاملے پر محکمہ مالیات سے بات چیت کی جائے گی۔ غریب کسانوں کے لیے تین ایکڑ تک زمین کی ٹریکٹر کے ذریعے ہل چلانے کی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے ’نیگلو یوگی‘ اسکیم بھی تیار کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی ملکیت کے ریکارڈ کو مستحکم بنانے کے لیے ’بھومی گیارنٹی‘ اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے ’تیگے سری‘ اسکیم پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔
زرعی شعبے کی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے ڈرون اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کے سروے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ اس کے تحت 3.32 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے میں فصلوں کا سروے کیا جائے گا، جبکہ 12 کروڑ روپے کے خرچ سے پانچ اضلاع کے پانچ ہوبلی علاقوں میں ڈیجیٹل کراپ سروے کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق 37 لاکھ 32 ہزار کسانوں کو فصل بیمہ اسکیم کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ 38 لاکھ کسانوں کو 30 ہزار کروڑ روپے کے قرض فراہم کیے گئے ہیں۔ 3 لاکھ 41 ہزار کسانوں کو زرعی مشینری فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 32,138 زرعی تالابوں کی تعمیر کے لیے 363 کروڑ روپے خرچ کیے جارہے ہیں، جبکہ 2,825 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈرپ اریگیشن نظام کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔
تقریب میں شریک طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے اپنے طالب علمی کے دور کی یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے کہا کہ آج طلبہ کو دیکھ کر انہیں تقریباً 50 سال قبل کا اپنا زمانہ یاد آرہا ہے، جب وہ بھی ابتدائی اور ہائی اسکول کی تعلیم کے دوران یومِ راجیوتسوا کی پریڈ اور ثقافتی پروگراموں میں حصہ لیا کرتے تھے۔ ہائی اسکول میں وہ بیس ڈرم بھی بجایا کرتے تھے۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ محنت، عزم اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھیں، کیونکہ آج کے طلبہ ہی مستقبل میں ریاست اور ملک کی قیادت کریں گے۔
دہلی میں کانگریس کی قیادت میں منعقد ہونے والے احتجاج کے بارے میں میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق دراصل زندگی کے حق کی طرح اہم ہے۔ جمہوری ملک میں لاکھوں افراد کے نام منظم طریقے سے ووٹر لسٹوں سے حذف کیے جانے کے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں۔ ہر شہری کے حقِ رائے دہی کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والی کانگریس پارٹی ہر ووٹر کے حق کی حفاظت کے لیے پابندِ عہد ہے اور دہلی میں منعقد ہونے والا احتجاج کامیاب ہوگا۔ کرناٹک میں بھی ووٹر لسٹوں سے لاکھوں نام مبینہ طور پر دانستہ طور پر حذف کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس ناانصافی کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کنڑا زبان، ریاست کی سرزمین، آبی وسائل اور ثقافت کا تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ کنڑا راجیوتسوا محض ایک سالانہ جشن نہیں بلکہ مادری زبان، تہذیب اور ریاستی تشخص کے تحفظ کے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کنڑ زبان کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور آنے والی نسلوں تک اس کی عظمت اور روایات کو منتقل کریں۔