بنگلورو ، 4/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر مال ڈاکٹر جی پرمیشور نے ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو راحت پہنچانے کے لیے مرکزی حکومت سے 22,400.58 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کو الگ الگ مکتوبات روانہ کرتے ہوئے فوری مداخلت اور ملاقات کے لیے وقت دینے کی درخواست کی ہے، تاکہ ریاست کی جانب سے خشک سالی سے متعلق نظرثانی شدہ یادداشت پیش کرتے ہوئے صورتِ حال کی سنگینی سے انہیں واقف کرایا جاسکے۔
2 نومبر 2026 کو روانہ کردہ مکتوبات میں ڈاکٹر پرمیشور نے بتایا کہ کرناٹک کے 226 تعلقہ جات خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 57.93 لاکھ ہیکٹر اراضی پر فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اس کے نتیجے میں مجموعی معاشی نقصان کا تخمینہ 62,481.88 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ اس بحران نے لاکھوں کسان خاندانوں، بالخصوص چھوٹے اور معمولی اراضی رکھنے والے کسانوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 26 اکتوبر 2026 کو ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (SDRF) اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (NDRF) کے تحت مالی امداد کے ضوابط میں سال 2026-27 سے 2030-31 تک کے لیے نظرثانی کی ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق فصلوں کے نقصان پر ان پٹ سبسڈی کے سلسلے میں کرناٹک کی ضرورت 6,128.70 کروڑ روپے سے بڑھ کر 7,943.55 کروڑ روپے ہوگئی ہے، یعنی اس مد میں 1,814.85 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
اس ترمیم کے نتیجے میں ریاست کی مجموعی خشک سالی امداد کی ضرورت پہلے پیش کردہ 20,585.73 کروڑ روپے سے بڑھ کر 22,400.58 کروڑ روپے ہوگئی ہے، جبکہ سابقہ یادداشت میں شامل دیگر تمام مدات برقرار رکھی گئی ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے امدادی ضوابط میں نظرثانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے تشویش ظاہر کی کہ موجودہ زرعی اخراجات، موسمیاتی آفات کی بڑھتی ہوئی شدت اور کسانوں کی معاشی مشکلات کے مقابلے میں امدادی رقم میں اضافہ اب بھی ناکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے ضوابط کے تحت بارانی فصلوں کے لیے فی ہیکٹر 11,000 روپے، آبپاشی والی فصلوں کے لیے 22,000 روپے اور دائمی فصلوں کے لیے 30,000 روپے کی امداد مقرر کی گئی ہے، جو بیج، کھاد، زرعی مزدوری، آبپاشی اور دیگر ضروری اخراجات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے اپنے مکتوبات میں کہا کہ 2026 کے زرعی حقائق اور کاشت کاری کے حقیقی اخراجات کو نظرانداز کرتے ہوئے کسانوں کو ایسے امدادی نظام کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو ان کے نقصانات کی مکمل عکاسی نہ کرتا ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ قدرتی آفات کے دوران امداد محض رسمی کارروائی نہ ہو بلکہ اتنی مؤثر ہو کہ کسان اپنے نقصانات کی تلافی کرسکیں، روزگار بحال کرسکیں اور دوبارہ کاشت کاری شروع کرنے کے قابل بن سکیں۔
ڈاکٹر پرمیشور نے آفات سے متعلق امداد کے لیے 2015-16 کی زرعی مردم شماری کے اعداد و شمار پر مسلسل انحصار کو بھی باعثِ تشویش قرار دیا۔ ان کے مطابق تقریباً ایک دہائی پرانے اراضی کی ملکیت سے متعلق اعداد و شمار موجودہ زرعی صورتِ حال کی درست عکاسی نہیں کرتے، جس کے باعث کئی اہل چھوٹے اور معمولی کسان امداد سے محروم ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ مستحقین کی شناخت کے لیے کرناٹک حکومت کے فروٹس (FRUITS) ڈیٹابیس کو استعمال کرنے پر غور کیا جائے، جو کسانوں اور مستفیدین کی شناخت کے لیے زیادہ جدید اور تصدیق شدہ معلومات فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے موجودہ آفات سے متعلق امدادی نظام کا جامع جائزہ لینے، کاشت کاری کے حقیقی اخراجات کو شامل کرنے، اراضی کی ملکیت کے تازہ اعداد و شمار استعمال کرنے اور موسمیاتی آفات کی بڑھتی ہوئی شدت کے مطابق کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
2047 تک ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے قومی ہدف کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ ایسا ترقی یافتہ ہندوستان تعمیر نہیں کیا جاسکتا جہاں ایک ناکام مانسون کسانوں کی برسوں کی محنت کو برباد کردے، خاندان کی جمع پونجی ختم ہوجائے اور کاشت کاروں کی آئندہ نسل غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہوجائے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے وزیر اعظم اور متعلقہ مرکزی وزراء سے درخواست کی ہے کہ کرناٹک کی 22,400.58 کروڑ روپے کی نظرثانی شدہ امدادی ضرورت کو باضابطہ طور پر قبول کرتے ہوئے اس کا جائزہ جلد مکمل کیا جائے اور قابلِ قبول مالی امداد کی منظوری کے ساتھ رقم کی فوری اجرائی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کرناٹک میں خشک سالی کی غیر معمولی شدت کے پیش نظر مرکزی حکومت کی جانب سے بھی اسی سنجیدگی، ہمدردی اور فوری اقدام کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ کسی ملک کی ترقی کا حقیقی پیمانہ صرف یہ نہیں کہ اچھے سال میں اس کے کسان کتنی پیداوار کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ مشکل وقت میں حکومت ان کے ساتھ کتنی مضبوطی سے کھڑی رہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرناٹک کے کسان خاندان محض ہمدردی اور معمولی اضافی امداد کے نہیں بلکہ بروقت مالی تعاون، منصفانہ اور حقیقت پسندانہ امدادی نظام اور اس یقین دہانی کے مستحق ہیں کہ خشک سالی کے تباہ کن اثرات کا سامنا انہیں تنہا نہیں کرنا پڑے گا۔