نئی دہلی،3/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب ہندوستان کو اپنے اہم قومی فیصلوں کی اطلاع خود اپنی حکومت کے بجائے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ یا ان کے مقرر کردہ عہدیداروں کے ذریعے ملتی ہے۔ جے رام رمیش نے اس صورتِ حال کو ’ٹرمپ نربھرتا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرمپ پر انحصار کی علامت ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے بات کی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت ’میڈ اِن انڈیا‘ مصنوعات پر امریکی ٹیرف کم ہو کر 18 فیصد رہ جائے گا۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سب سے پہلے ہندوستانی حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کی طرف سے سامنے آئیں۔ ان کے مطابق اب یہ معمول بنتا جا رہا ہے کہ حکومت کے فیصلوں کی خبر ہندوستان کو صدر ٹرمپ یا ان کے نمائندوں سے ملتی ہے۔
کانگریس رہنما نے اپنی ایک اور پوسٹ میں آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں اس کارروائی کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا تھا، حالانکہ ہندوستانی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جے رام رمیش کے مطابق ان تمام مثالوں سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وزیر اعظم مودی پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے۔