نئی دہلی 27/جنوری (ایس او نیوز) راجستھان کے کوٹا میں ایک مذہبی تقریب کے دوران بھارتی فوج کے وردی میں ملبوس جوانوں کی شرکت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد فوجی حلقوں میں گہری تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ دی وائر (The Wire) کی رپورٹ کے مطابق یہ تقریب خود ساختہ ہندو مذہبی پیشوا دھیریندر کرشن شاستری، المعروف بابا باگیشور، کی قیادت میں منعقد کی گئی، جو یومِ جمہوریہ سے چند دن قبل منعقد ہوئی تھی۔
دی وائر کے مطابق، اگرچہ ان ویڈیوز کو اب تک کسی سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم یہ کلپس آن لائن قریب قریب وائرل ہو چکے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیوز میں کوٹا میں تعینات 14 سکھ یونٹ کے جوانوں کو بابا باگیشور کے عقیدت مندوں کے درمیان بیٹھا ہوا دیکھا گیا ہے۔
ویڈیو فوٹیج میں فوجی جوان مدھیہ پردیش کے باگیشور دھام مندر کے مہنت دھیریندر کرشن شاستری کو تعظیم پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو مبینہ طور پر ذہن پڑھنے جیسی خدائی صلاحیتوں کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جوان نذرانے پیش کرنے کے بعد ان کے قدموں میں بیٹھے نظر آتے ہیں، ہاتھ جوڑے ہوئے ان کا وعظ سنتے ہیں۔ دی وائر نے رپورٹ کیا کہ مقامی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر نے بھارتی فوج کی جانب سے شاستری کی علانیہ ستائش کی اور بعد ازاں اس تقریب کی ویڈیو بھی شیئر کی۔
اس معاملے پر سوالات کے جواب میں نئی دہلی میں بھارتی فوج کے ترجمان نے دی وائر کو بتایا کہ انہیں کوٹا میں ہونے والی اس تقریب کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی اور واضح کیا کہ یہ تقریب فوج کی جانب سے سرکاری طور پر منعقد نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ فوجی اہلکاروں کے لیے وردی میں عبادت گاہوں کا دورہ ممنوع نہیں، تاہم اس تقریب کو کوئی سرکاری منظوری حاصل نہیں تھی۔
تقریب کے دوران شاستری نے مجمع سے خطاب کیا، جس میں بڑی تعداد میں فوجی جوان شامل تھے۔ دی وائر کے مطابق، انہوں نے شہریوں سے یومِ جمہوریہ کے موقع پر مسلح افواج کو سلام پیش کرنے کی اپیل کی اور سرحدوں اور ہمالیائی خطے میں فوجیوں کی قربانیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم رات کو سکون سے سوتے ہیں کیونکہ فوجی ہماری حفاظت کے لیے جان خطرے میں ڈال کر چوکس رہتے ہیں۔ انہیں خادم نہ سمجھیں بلکہ بہادر (ویر) سمجھ کر سلام کریں، جو ہماری سلامتی کی ضمانت ہیں۔‘‘
تاہم، دی وائر نے نشاندہی کی کہ ریٹائرڈ فوجی افسران کو تشویش فوجیوں کی تعریف پر نہیں بلکہ اس بات کو لے کر ہے کہ وردی میں ملبوس جوانوں کا کسی مذہبی پیشوا کے قدموں میں بیٹھنا، اس پیشوا کو مذہب، قوم اور فوج کے درمیان ایک علامتی واسطہ بنا دیتا ہے۔
میجر جنرل (ریٹائرڈ) اے پی سنگھ نے دی وائر کو بتایا کہ کوٹا کا یہ واقعہ ’’کھلم کھلا نمائشی اور بآسانی قابلِ اجتناب‘‘ تھا، جس میں فوجیوں کو ایک خود ساختہ ہندو مذہبی پیشوا کے ذریعے تشکیل دی گئی مذہبی کہانی کا حصہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عمل ایک سیکولر فوج کے مزاج کے بالکل خلاف ہے، جہاں کبھی تلک جیسے ظاہری مذہبی نشانات کی بھی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔ ان کے مطابق اس سے ذاتی عقیدے اور پیشہ ورانہ شناخت کے درمیان قائم نازک حد دھندلا جاتی ہے۔
دی وائر سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے دیگر کئی سینئر سابق فوجی افسران نے بھی انہی خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فوجی اور افسران کسی متنازع مذہبی شخصیت کے سامنے علانیہ عقیدت پیش کرتے نظر آئیں، خاص طور پر ایسی شخصیت جو نظریاتی سیاست سے جڑی ہو، تو اس سے فوج کی شبیہ ایک آئینی ادارے کے بجائے کسی ثقافتی یا مذہبی منصوبے کے معاون ادارے کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
سابق فوجی افسران نے خبردار کیا کہ اس قسم کی علانیہ مذہبیت، جو ان کے بقول حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے، فوج کی سیکولر بنیادوں کو کمزور کرتی ہے اور اس کی اندرونی یکجہتی کے لیے خطرہ بنتی ہے۔ یومِ جمہوریہ کے قریب اس تقریب کا انعقاد اور اس کی سوشل میڈیا پر وسیع تشہیر نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی فوج کے لیے احترام اور قدردانی کے اظہار کے لیے کسی مذہبی واسطے کی ضرورت نہیں۔ قوم کی طرف سے عزت و احترام کا مطلب کسی مذہبی پیشوا کے سامنے رسمی عقیدت پیش کرنا نہیں ہے۔
دی وائر کے مطابق، ایک ریٹائرڈ تھری اسٹار افسر نے کہا، ’’بھارتی فوج اپنی قانونی حیثیت آئین سے حاصل کرتی ہے، نہ کہ کسی مذہبی سند سے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جب اس فرق کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مٹا دیا جائے تو اس کے اثرات کسی ایک واقعے یا وائرل ویڈیو تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ اس بنیادی اصول پر ضرب لگاتا ہے کہ فوج صرف اسی جمہوریہ کے سامنے جواب دہ ہے جس کی وہ خدمت کرتی ہے۔
چنڈی گڑھ میں مقیم ایک ریٹائرڈ ون اسٹار افسر نے دی وائر کو بتایا کہ وردی میں ملبوس فوجیوں کا اس طرح مذہبی عقیدت کا علانیہ مظاہرہ کرنا قابلِ مذمت ہے، اور یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب متعلقہ مذہبی پیشوا کی ساکھ ہی مشتبہ ہو۔
دھیریندر کرشن شاستری، جنہیں باگیشور دھام سرکار بھی کہا جاتا ہے، نے روحانی سند سے زیادہ تماشہ آرائی اور تنازعات کے ذریعے شہرت حاصل کی ہے۔ انہوں نے ذہن پڑھنے اور معجزاتی علاج جیسے دعوؤں کے ذریعے عوامی مقبولیت حاصل کی، جن پر خرافات کو فروغ دینے کا الزام لگتا رہا ہے۔
ان کا اثر مذہب تک محدود نہیں بلکہ کھلی سیاسی وکالت تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ بھارت کو ہندو راشٹر قرار دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں، مذہبی تبدیلی کی مہمات میں حصہ لے چکے ہیں اور سیاسی طاقت کے قریب رہنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جنوری 2023 میں وہ ایک عقلیت پسند کی جانب سے اپنے خدائی دعوؤں کو ثابت کرنے کے عوامی چیلنج سے بچنے پر تنقید کی زد میں آئے تھے۔ فلم ’’پٹھان‘‘ کی مخالفت سمیت ان کے کئی بیانات متنازع رہے ہیں۔
دی وائر کے مطابق، شاستری اکثر ہندو عقیدے کو قوم پرستی سے جوڑتے ہیں، مذہبیت کو ثقافتی وفاداری کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جسے وہ ’’سناتن بیداری‘‘ کہتے ہیں، اسے تہذیبی فریضہ قرار دیتے ہیں۔ ناقدین کو وہ اکثر ملک دشمن قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کی تقاریر میں عقیدے، شہریت اور سیاسی وابستگی کے درمیان فرق مسلسل مٹتا نظر آتا ہے۔
ایک سابق کرنل نے دی وائر کو بتایا کہ وردی میں ملبوس فوجیوں کو ایسی شخصیت سے جوڑنا نہ صرف کوٹا واقعے کی نامناسب نوعیت کو بڑھاتا ہے بلکہ ادارہ جاتی فیصلوں اور فوجی نظم و ضبط پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کے واقعات ذاتی عقیدے اور پیشہ ورانہ ذمہ داری، قومی خدمت اور سیاسی یا مذہبی پیغام رسانی کے درمیان حد کو دھندلا دیتے ہیں۔
سابق فوجی افسران نے اس تقریب کے وقت کو بھی خاص طور پر تشویشناک قرار دیا۔ ان کے بقول، یومِ جمہوریہ آئینی اقدار کی یاد دہانی ہے، نہ کہ مذہبی تحریک کی۔ ایسے مواقع پر فوجیوں کی شرکت اقلیتی اہلکاروں کو بیگانہ کر سکتی ہے، اندرونی ہم آہنگی کو کمزور کر سکتی ہے اور فوج کے سیاسی ہونے کے تاثر کو تقویت دے سکتی ہے۔
اتنا ہی تشویشناک امر، سابق افسران کے مطابق، فوری اصلاحی کارروائی یا کمانڈ سطح پر جواب دہی کا فقدان ہے۔ ایک سابق افسر نے دی وائر کو بتایا کہ فوجی قوانین اور پرانی روایات اسی لیے موجود ہیں تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے، اور ان کا کمزور پڑنا ایک خطرناک ادارہ جاتی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
دی وائر نے گزشتہ دسمبر دی ٹریبیون میں شائع ہونے والے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا کے تبصرے بھی یاد دلائے، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اگرچہ سینئر افسران نجی طور پر مذہبی مقامات کا دورہ کر سکتے ہیں، مگر ان دوروں کو سرکاری طور پر سوشل میڈیا پر مشتہر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
ہوڈا نے خبردار کیا تھا کہ کسی ایک مذہب کی علانیہ تائید کا تاثر بھی ایک متنوع فوج کے باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ذاتی عقیدے اور ادارہ جاتی توثیق کے درمیان حد کا مٹنا فوج کے سیکولر اور پیشہ ورانہ کردار کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔
دی وائر کے مطابق، ہوڈا کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے تھے جب گزشتہ دسمبر اجین کے مہاکالیشور جیوتیرلنگ مندر میں آرمی چیف جنرل منوج دویدی کی زعفرانی لباس میں، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ پوجا کرتے ہوئے ویڈیوز پر تنقید ہو رہی تھی۔ جہاں اپوزیشن نے ان مناظر پر اعتراض کیا، وہیں بی جے پی نے ان کا دفاع کیا۔
سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما راجیو چندرشیکھر نے ٹائمز ناؤ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی کو وزیر دفاع یا آرمی چیف کے اپنے مذہب پر عمل کرنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، اور اعتراض کرنے والوں کو ’’کہیں جا کر دفن ہو جانا چاہیے‘‘۔
چند ماہ بعد، مئی کے اواخر میں آپریشن سندور کے فوراً بعد، جنرل دویدی نے مدھیہ پردیش کے چترکوٹ میں روحانی پیشوا جگدگرو رام بھدراچاریہ کے آشرم کا دورہ کیا اور اس دورے کو ایک بار پھر علانیہ کیا، جس پر دی وائر کے مطابق نئے سوالات کھڑے ہوئے۔
اس ملاقات کے بعد رام بھدراچاریہ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہوں نے آرمی چیف کو رام منتر کی دیکشا دی اور بعد میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے بطور دکشنا پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کا مطالبہ کیا، جس پر آرمی چیف نے مبینہ طور پر کہا کہ بھارت پاکستان کو مناسب جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
دی وائر کے مطابق، بہت سے سابق فوجی افسران کے نزدیک کوٹا کا واقعہ کوئی الگ تھلگ لغزش نہیں بلکہ ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے، جس میں قواعد میں نرمی، اکثریتی علامتوں کی سرپرستی اور فوج کے غیر سیاسی کردار کی بتدریج کمزوری شامل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے واقعات فوری بحران پیدا نہیں کرتے، مگر یہ خاموشی سے اس فوج کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ بنیادوں کو کھوکھلا کرتے ہیں، جو طویل عرصے سے مذہب، سیاست اور نظریے سے بالاتر رہ کر اپنی ساکھ قائم کیے ہوئے ہے۔
سابق فوجی افسران نے زور دیا کہ مسلح افواج میں ضبطِ نفس کسی عقیدے کی نفی نہیں بلکہ ادارے اور قوم کے تئیں ایک فرض ہے۔ میجر جنرل سنگھ کے مطابق، ’’بھارتی فوج کی طاقت ہمیشہ اس کی اس صلاحیت میں رہی ہے کہ وہ انفرادی شناختوں کو ایک مشترکہ قومی مقصد میں ضم کر دے۔‘‘ اگر ایسے واقعات کو نہ روکا گیا تو یہ طرزِ عمل معمول بنتا چلا جائے گا، جو فوج کی غیر سیاسی اور ہمہ گیر بنیادوں کو آہستہ آہستہ کمزور کرتا رہے گا۔