لکھنؤ ، یکم فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے مرکزی بجٹ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ نہ تو کسانوں کو کوئی حقیقی راحت دیتا ہے اور نہ ہی غریب اور محروم طبقات کی زندگی میں بہتری لاتا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی حکومت بجٹ کے ذریعے اپنے قریبی لوگوں کو ’سیٹ‘ کرتی ہے اور ان کی اقتصادی ترقی کو یقینی بناتی ہے، جبکہ عام آدمی کی حالت جوں کی توں بنی رہتی ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ کسانوں کے لیے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر عملی طور پر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں کسان اور غریب شامل نہیں ہیں۔
انہوں نے حکومت کو اس کے پرانے منشور کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو خود جائزہ لینا چاہیے کہ اس نے عوام سے کیے گئے وعدوں کا کیا انجام ہوا۔ اکھلیش یادو نے اسمارٹ سٹی منصوبے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جن شہروں کو اسمارٹ سٹی قرار دیا گیا، وہاں سولیڈ ویسٹ مینجمنٹ کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ خراب پانی پینے سے لوگوں کی جانیں تک چلی گئیں۔
ان کے مطابق اچھا بجٹ وہی ہوتا ہے جو غریب کے چہرے پر مسکراہٹ اور زندگی میں خوشحالی لائے لیکن موجودہ بجٹ اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہی ترقی کا ماڈل ہے تو پھر عام عوام کو اس کا فائدہ کہاں ملا۔
قبل ازیں، اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں ایس آئی آر کے عمل کو لے کر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عدالت، الیکشن کمیشن اور میڈیا سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مواضعات میں فارم 7 کے غلط استعمال کے ذریعے مخالف ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر کے تحت پہلے سے چھپے فارم 7 تقسیم کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے کوئی بھی شخص کسی دوسرے کا نام ووٹر لسٹ سے کٹوانے کے لیے اعتراض درج کر سکتا ہے۔
اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ یہ فارم کون بھیج رہا ہے اور شکایت کرنے والے کون ہیں، اس بارے میں کسی کو درست معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی دستخطوں کے ذریعے اپوزیشن ووٹروں کے نام منظم طریقے سے کٹوائے جا رہے ہیں اور جن ووٹروں کے خلاف اعتراض درج ہو رہے ہیں، انہیں اس کی اطلاع تک نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق تمام دستاویزات درست ہونے کے باوجود نام نکالنا جمہوری نظام پر سیدھا حملہ ہے۔
سماج وادی پارٹی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ اس مبینہ سازش کا سب سے زیادہ اثر پی ڈی اے کمیونٹی پر پڑ رہا ہے، جس میں اقلیتی برادری کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام نیوز چینلوں، اخبارات، مقامی یوٹیوبرز اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کریں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے سچ سامنے لائیں۔