نئی دہلی ،یکم فروری (ایس او نیوز) مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتا رامن نے آج جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں ٹیکس کے اصولوں میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ریٹرنس بھرنے اور ٹیکس ادا کرنے سے متعلق قوانین میں اہم ترین تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس سے ٹیکس دہندگان کو سہولت حاصل ہوگی ۔
اس مرتبہ بجٹ میں ٹی سی ایس کی شرح میں کمی اور بیرونی ممالک میں جائداد ظاہر کرنے کے لئے نئے مواقع فراہم کیے گئے ہیں جس سے ٹیکس دہندگان کا بوجھ کم ہوگا ۔
ٹیکس ادائیگی کو آسان بنانے سے متعلقہ نئے قوانین کا اطلاق یکم اپریل 2026 سے ہوگا ۔ اس سے نئے قانون کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی کے لئے اپنے ریٹرنس کو درست کرنے کا موقع ملے گا ۔
ٹیکس کے نئے فریم ورک کے مطابق یکم اپریل سے سہولت فراہم کرنے والے ٹیکس کے نئے نظام پر عمل کیا جائے گا اور انکم ٹیکس ریٹرن -۱ اور انکم ٹیکس ریٹرن -۲ کے تحت انفرادی طور پر ٹیکس ریٹرنس بھرنے کی مدت کو 31 جولائی تک بڑھا دیا گیا ہے ۔ جس تجارت اور ٹرسٹ کے لئے آڈٹ لازمی نہیں ہے، انہیں ریٹرنس داخل کرنے کے لئے 31 اگست تک گنجائش دی گئی ہے ۔
نظر ثانی شدہ ریٹرنس داخل کرنے کی مدت معمولی فیس کے ساتھ 31 مارچ تک مقرر کی گئی ہے ۔ اسسمنٹ کا پروسیس شروع ہونے کے بعد بھی 10% اضافی ٹیکس ادا کرتے ہوئے اپڈیٹیڈ ریٹرنس بھرنے کی بھی گنجائش دی گئی ہے ۔
نئے بجٹ میں خصوصی طور پر گاہکوں کو رعایت دینے کے مقصد سے بیرونی ممالک کے سفر اور رقم ٹرانسفر کرنے پر ٹی سی سی کی شرح میں بھاری کمی کی گئی ہے ۔ فارین ٹور پیکیج کے پہلے والے 5% اور 105% ٹیکس کو کسی بھی طے شدہ حد کے بغیر 2% کر دیا گیا ہے ۔ طبی اور تعلیمی ضرورت کے تحت ایل آر ایس کے تحت بیرونی ممالک کو بھیجی جانے والی رقم پر لگنے والے 5% ٹی سی ایس کو گھٹا کر 2% کر دیا گیا ہے ۔
موٹر گاڑیوں کے حادثات سے ہونے والے متاثرین کو راحت دیتے ہوئے عدالت سے ملنے والے ہرجانے کو پوری طرح ٹیکس فری کر دیا گیا ہے اور اس پرکوئی ٹی ڈی ایس لاگو نہیں کیا جائے گا ۔ جبکہ چھوٹے سرمایہ کاروں کو غیر ضروری ٹی ڈی ایس سے بچانے کے لئے اقدام کیا گیا ہے ۔
غیر رہائشی ہندوستانیوں کو بیرونی ممالک میں جائداد کے متعلق تفصیلات ظاہر کرنے کے لئے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے ۔ نئے اصول کے تحت زمرہ (الف) میں ایک کروڑ روپے تک مالیت کی غیر اعلان شدہ جائداد کے لئے 60% ٹیکس اور ہرجانہ ۔ زمرہ (ب) میں پانچ کروڑ روپے تک مالیت کے لئے ایک کروڑ روپے ٹیکس ادا کرتے ہوئے اپنی جائداد کی تفصیلات ظاہر کی جا سکتی ہیں ۔ ان دونوں زمروں میں اپنی جائداد کا اعلان کرنے والوں کو قانونی کارروائی سے گزرنا نہیں پڑے گا ۔