دبئی، 3 فروری (ایس او نیوز): دبئی کے قریب عجمان میں منعقدہ بھٹکل پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ یکم فروری بروز اتوار شاندار اور کامیاب انداز میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ فائنل مقابلے میں اے زیڈ ڈائمنڈ رائیڈرس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رس بہار چیلنجرس کو باآسانی شکست دے کر ٹورنامنٹ کا خطاب اپنے نام کر لیا، جبکہ رس بہار کی ٹیم دوسرے مقام پر رہی۔ یہ ٹورنامنٹ 4 جنوری سے ہر اتوار کو کھیلا جا رہا تھا، جو بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
فائنل مقابلے میں اے زیڈ ڈائمنڈ رائیڈرس نے ٹاس جیت کر رس بہار کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی۔ اگرچہ پچ اور گراؤنڈ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین اس فیصلے پر سوال اٹھا رہے تھے، تاہم اے زیڈ کے بولرز نے منظم بولنگ کرتے ہوئے اس فیصلے کو درست ثابت کر دیا۔ رس بہار کے خطرناک بلے باز اسماعیل خان، جو دو چھکوں کی مدد سے محض چھ گیندوں پر 16 رنز بنا چکے تھے، محمد رئیس کی آخری گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد اسجد درگا کو محمد علی جوشیدی نے مروان شانو کے ہاتھوں کیچ کرایا، جبکہ عبدالمجید شیخ ثمران جوکاکو کی شاندار فیلڈنگ کے باعث رن آؤٹ ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی رس بہار کے کھلاڑیوں کا آنا اور پھر ناکام ہوکر واپس جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور پوری ٹیم 18ویں اوور کی پہلی گیند پر صرف 113 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

محمد علی جوشیدی جنہوں نے ابتدا سے ہی بہترین بلے بازی کے ساتھ شاندار باولنگ کے ذریعے بھی اپنی ٹیم میں جان پھونک دی تھی، فائنل میں بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 29 رنز اسکور کرنے کے ساتھ چار وکٹیں بھی حاصل کیں۔
رس بہار کی جانب سے سُہیم جوباپو 28 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے، جبکہ اے زیڈ ڈائمنڈ رائیڈرس کی طرف سے شاہد شیخ نے شاندار 50 رنز اسکور کیے۔ اے زیڈ ٹیم نے ہدف کو 17ویں اوور کی پہلی گیند پر چار وکٹوں کے نقصان پر آسانی سے حاصل کر لیا۔

4 جنوری کو شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں اے زیڈ ڈائمنڈ رائیڈرس نے ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ سے اپنی برتری ثابت کر دی تھی اور پہلے ہی میچ میں اس ٹیم نے رس بہار چیلنجرس کو ایک سنسنی خیز مقابلے میں شکست دی تھی، جہاں آخری اوور کی تیسری گیند پر 168 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا گیا تھا۔ اس میچ میں ٹورنامنٹ کے سب سے مہنگے کھلاڑی محمد علی جوشیدی، جنہیں اے زیڈ ڈائمنڈ رائیڈرس نے 105 پوائنٹس میں حاصل کیا تھا، نے ایک ہی اوور میں چھ لگاتار چھکے لگا کر بھٹکل کے پہلے بلے باز بنے اور تاریخ رقم کی۔ انہوں نے اس میچ میں 19 گیندوں پر 63 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ شاندار بولنگ کرتے ہوئے 21 رنز دے کر دو وکٹیں بھی حاصل کیں۔

اے زیڈ ڈائمنڈ رائیڈرس نے اپنے دوسرے میچ میں لکثری زون ٹائٹنس کو چار وکٹوں سے، تیسرے میچ میں ڈاکٹر حنیف وارئیرس کو سات وکٹوں سے شکست دی، جبکہ سیمی فائنل میں ایک اور سنسنی خیز مقابلے میں رائزنگ اسٹارس کو چھ وکٹوں سے ہرا کر فائنل میں رسائی حاصل کی۔
دوسری جانب رس بہار چیلنجرس نے پہلا میچ ہارنے کے بعد شاندار واپسی کی۔ اس ٹیم نے دوسرے میچ میں ڈاکٹر حنیف وارئیرس کو تین وکٹوں سے، تیسرے میچ میں لکثری زون ٹائٹنس کو آٹھ وکٹوں سے اور سیمی فائنل میں ٹی ٹو پارٹی آفیشلز کو چار وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔
ٹورنامنٹ کے انفرادی اعزازات میں رس بہار کے اسماعیل خان کو 237 رنز بنانے پر بیسٹ بیٹسمین، رائزنگ اسٹارس کے ساحل ساوڑا کو بیسٹ بولر جبکہ اے زیڈ ڈائمنڈ رائیڈرس کے محمد علی جوشیدی کو شاندار آل راؤنڈ کارکردگی پر مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ محمد علی کو ایک اوور میں چھ چھکے لگانے پر خصوصی اعزاز بھی دیا گیا، جبکہ فائنل کے مین آف دی میچ کا اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا۔ مرحوم قائد قوم جناب ایس ایم سید خلیل کے نام سے موسوم فیر پلے ایوارڈ بھی اے زیڈ ڈائمنڈ رائیڈرس نے حاصل کیا اور ٹیم کے مالک ذیشان آر ایس نے یہ ایوارڈ حاصل کیا۔

فائنل تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تشریف فرما ایس ایم رحمانی کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر معاذ ایس ایم نے کامیاب اور منظم انداز میں بی پی ایل کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد پر بی پی ایل کمیٹی کو مبارکباد پیش کی، ساتھ ہی اول و دوم پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے آرگنائزرز کو مشورہ دیا کہ دبئی میں مختلف گروپس کے تحت الگ الگ ٹورنامنٹس منعقد کرنے کے بجائے اگر بھٹکل کمیونٹی کے تمام افراد متحد ہو کر اس طرح کے ٹورنامنٹس کا اہتمام کریں تو اس سے باہمی یکجہتی اور اتحاد کو مزید تقویت ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دیگر کمیونٹیز کے افراد کو بھی ایسے ٹورنامنٹس میں مدعو کرنے اور انہیں سرگرم شرکت کا موقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر بی پی ایل کے کئی ذمہ داران بالخصوص محمد غوث خلیفہ ، شہریار خطیب، جیلانی محتشم،عبدالستار لنکا،ناشط برماور،ضیاء جوکاکو،عبدالمتین ڈی ایف، عقیل سدی باپا وغیرہ بھی موجود تھے۔
بی پی ایل کمیٹی کے کنوینر طحٰہ معلم نے استقبالیہ پیش کیا، چیئرمین یاسر قاسمجی نے صدارت کی، عمران خطیب نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور آخر میں افاق نائطے نے شکریہ ادا کیا۔ میچوں کی شاندار کمنٹری کرنے والے سمیر ہندوستانی اور الطاف پٹھان، فوٹوگرافر رافع شریف، اسکوررز عُقبیٰ رکن الدین، مُعید شینگیری اور دیگر کئی ذمہ داران کی خدمات کو سراہا گیا، جن کی بدولت یہ ٹورنامنٹ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
