بنگلورو، 3/ فروری (ایس او نیوز /پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بنگلورو میں منعقد جمعیۃ علماء کرناٹک کے اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرستی نے ملک کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں فرقہ پرست طاقتیں پوری منظم حکمتِ عملی کے ساتھ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، نفرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے اور سماج کو انسانیت سے محروم کیا جا رہا ہے۔
حالات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ راہ چلتے بے گناہ مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، دن دہاڑے ماب لنچنگ کی جاتی ہے اور پھر مظلوم ہی کو مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر کے پاس اگرچہ حکومت اور اقتدار کی طاقت ہے، لیکن ہمارے پاس پیار، محبت، انسانیت اور ملک کے آئین کی وہ طاقت موجود ہے جس کے سہارے ہم ان سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند نہ کبھی نفرت کے راستے پر چلی ہے اور نہ کبھی چلے گی، بلکہ اس کا پیغام ہمیشہ امن، بھائی چارہ اور انسان دوستی رہا ہے۔ ہم ہندو یا مسلمان نہیں دیکھتے، ہم انسان دیکھتے ہیں، اور اسی بنیاد پر خدمت کرتے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں جمعیۃ کی جانب سے جس پیمانے پر امدادی کام انجام دیے گئے، اس کے گواہ وہ علاقے اور وہاں کے لوگ ہیں جنہوں نے کھلے دل سے اس خدمت کا اعتراف کیا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جن لوگوں کے آباؤ اجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی، جیلیں کاٹیں، جانوں کی قربانیاں دیں اور اس ملک کو آزاد کروایا، آج انہی کی اولاد کو دیش دروہی کہا جا رہا ہے۔ اسی قوم کے نوجوانوں کو جھوٹے دہشت گردی کے مقدمات میں پھنسا کر ان کی زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند ملک بھر میں مظلوموں کے مقدمات لڑتی ہے، نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک ان کی پیروی کرتی ہے، اور ایک طویل فہرست ان بے گناہوں کی موجود ہے جنہیں جمعیۃ کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں باعزت بری کرایا گیا۔ ہم مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ مظلومیت اور انسانیت کی بنیاد پر مقدمات لڑتے ہیں۔ فرقہ پرست طاقتیں الزام لگاتی ہیں کہ ہم دہشت گردوں کا مقدمہ لڑتے ہیں، لیکن ہمارا واضح مؤقف ہے کہ ہم دہشت گردوں کا نہیں بلکہ مظلوموں کا مقدمہ لڑتے ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ آج فرقہ پرستی کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں، جس کا خمیازہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پورا ملک بھگت رہا ہے، اور دیگر اقلیتیں بھی شدید گھٹن محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کے میاں مسلمانوں سے متعلق بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں میاں مسلمان کہلانے میں کوئی عار نہیں، کیونکہ میاں مسلمان اسلام پر جیتا ہے اور اسلام پر ہی مرتا ہے۔ ایسے بیانات ایک خاص ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو زبان اور رویّے سے صاف ظاہر ہو جاتی ہے۔مولانا مدنی نے آسام کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ این آر سی کے معاملے میں جمعیۃ علماء ہند نے قانونی جدوجہد کی، انہوں نے کہا کہ آسام میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر اکثریت کی نظر میں مشکوک بنانے کی مسلسل کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں سماجی سطح پر فرقہ وارانہ کشیدگی ہمیشہ برقرار رہی۔ حتمی این آر سی کے نفاذ کے چھ سال بعد بھی شناختی کارڈ جاری نہ کیے جانے کے معاملے کو جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں اٹھایا، جس پر عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مرکز، حکومتِ آسام اور این آر سی حکام کو نوٹس جاری کیے۔ جمعیۃ علماء ہند نہ کل پیچھے ہٹی تھی، نہ آج ہٹے گی اور نہ آئندہ کبھی ہٹے گی، کیونکہ یہ وہ جماعت ہے جس نے آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور جس کے اکابرین نے اس ملک کے سیکولر دستور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ حالت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کو دیش دروہی جیسے توہین آمیز القابات دیے جا رہے ہیں، ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں، مدارس اور مسجدیں منہدم کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں کون پاگل اور دیوانہ ہوگا جو یہاں آ کر بسنے کا سوچے گا۔ انہوں نے کہا کہ گائے کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، حالانکہ گائے صرف کاٹنے کے لیے نہیں ہوتی، خود میرے پاس گائیں ہیں اور ہم انہیں پالتے ہیں، لیکن فرقہ پرست ذہنیت کو مسلمان کو مارنے کے لیے محض ایک بہانہ درکار ہوتا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے، ہندو اور مسلمان صدیوں سے یہاں ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں، ہمارے رگ و پے میں پیار، محبت اور بھائی چارے کی روایت رہی ہے، لیکن افسوس کہ آج فرقہ پرستی کا زہر اس قدر پھیل چکا ہے کہ دن دہاڑے مظلوم مسلمانوں کی جان لے لی جاتی ہے اور انہیں دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ملک جس کی پہچان پیار و محبت تھی، آج نفرت کی آگ میں جل رہا ہے، اور اس آگ کو بجھانا صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہر انصاف پسند شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ پیار اور محبت سے دینا ہوگا، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہوگا، مل جل کر زندگی گزارنی ہوگی، کیونکہ اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے اور یہی اس ملک کی اصل روح ہے۔ آخر میں مولانا مدنی نے کہا کہ موجودہ حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، جو حالات آج ہیں وہ ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ ہر دن کے بعد سورج طلوع ہوتا ہے، اور وہ دن بھی آئے گا جب امن، بھائی چارہ اور محبت کا سورج طلوع ہوگا اور نفرت و فرقہ پرستی کا سورج غروب ہو جائے گا، کیونکہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ صبحِ روشن قریب ہوتی ہے، اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ظالموں کے گلے میں زنجیریں ہوں گی اور یہ ملک ایک بار پھر پیار، محبت اور انصاف کے سائے میں ترقی کرے گا۔
قابل ذکر ہے کہ جمعیۃ علماء کرناٹک کی مجلس منتظمہ کے اجلاس کے اختتام پر منعقد اس عظیم الشان اجلاس عام میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مفتی معصوم ثاقب، جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی، جنرل سکریٹری محب اللہ خان امین، جمعیۃ علماء تمل ناڈو کے صدر مفتی سبیل احمد قاسمی، جمعیۃ علماء آندھرا و تلنگانہ جنرل سکریٹری مفتی محمود زبیر قاسمی بطور خاص شریک تھے- اس موقع پر مدرسہ علوم شرعیہ شرجاپور بنگلور وکے 21/ حفاظ کرام کی دستاربندی بھی مولانا مدنی کے ہاتھوں عمل میں آئی۔