ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / مرکزی بجٹ میں وژن اور انصاف کی کمی، ریاستوں اور کسانوں کے مفادات نظرانداز: سدارامیا

مرکزی بجٹ میں وژن اور انصاف کی کمی، ریاستوں اور کسانوں کے مفادات نظرانداز: سدارامیا

Mon, 02 Feb 2026 19:05:57    S O News

کلبرگی، 2/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے مرکزی بجٹ 2026-27 کو اپنی سیاسی زندگی کا ’’سب سے زیادہ مایوس کن بجٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ بلند بانگ دعوؤں، مبہم نعروں اور خوشنما الفاظ سے تو بھرا ہوا ہے، لیکن اس میں نہ واضح سمت ہے، نہ عملی منصوبہ بندی اور نہ ہی ریاستوں کے تئیں انصاف کا کوئی احساس۔

کلبرگی ہوائی اڈے پر منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’وِکست بھارت‘‘ اور ’’کرتویا‘‘ جیسے بڑے نعروں کے سہارے عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے، مگر ان نعروں کو عملی شکل دینے کے لیے نہ کوئی واضح ٹائم لائن ہے اور نہ مالی وابستگی۔ ان کے مطابق وژن کا اعلان تو کر دیا گیا ہے، لیکن اس پر عملدرآمد کو غیر معینہ مدت کے لیے ٹال دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں کے لیے ٹیکس کی تقسیم کو 41 فیصد پر برقرار رکھ کر ان کی بڑھتی ہوئی مالی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستوں کا حصہ کم از کم 50 فیصد ہونا چاہیے تھا تاکہ وفاقی ڈھانچے میں توازن اور باہمی اعتماد قائم رہے۔

انہوں نے بتایا کہ 16ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے تحت کرناٹک کا ٹیکس شیئر گھٹ کر 4.131 فیصد رہ گیا ہے، جو 14ویں مالیاتی کمیشن کے تحت 4.71 فیصد تھا۔ اس کمی کے نتیجے میں ریاست کو سالانہ 10 سے 15 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگا، جس سے فلاحی اسکیموں، آبپاشی، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں پر براہِ راست اثر پڑے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکز کی جانب سے مالی خسارہ 4.4 فیصد پر رکھنے کا دعویٰ دراصل اخراجات میں کٹوتی اور وعدوں کو موخر کرنے کا نتیجہ ہے، نہ کہ بہتر مالی نظم و نسق کا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مرکزی اسپانسرڈ اسکیموں کے لیے جن اخراجات کا اعلان کیا گیا تھا، ان میں سے ایک بڑی رقم خرچ ہی نہیں کی گئی۔

سدارامیا نے بجٹ کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ گنے، تور دال، دالوں اور غذائی اجناس کے کسانوں کے مسائل پر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ نہ فصل بیمہ میں بہتری آئی، نہ نقصانات کے بروقت ازالے کی کوئی یقین دہانی دی گئی اور نہ ہی منڈیوں سے جوڑنے یا قیمتوں کے تعین کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بجٹ دیہی بحران کا جواب نہ دے، وہ نہ جامع ہو سکتا ہے اور نہ ہی ترقی پسند۔

وزیر اعلیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ کرناٹک کے اہم آبپاشی منصوبے ایک بار پھر نظرانداز کر دیے گئے۔ مکیداتو، اپر بھدرا، اپر کرشنا اور مہادیائی جیسے منصوبوں کے لیے نہ منظوری دی گئی اور نہ ہی وعدہ شدہ فنڈ جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لاپروائی کسانوں کی روزی روٹی اور ریاست کی آبی سلامتی کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔

ہائی اسپیڈ ریل منصوبوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگلورو-حیدرآباد اور بنگلورو-چنئی کوریڈورز سے کرناٹک کو محدود فائدہ ہوگا، جبکہ پڑوسی ریاستوں کو زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق اصل ضرورت بنگلورو-ممبئی یا بنگلورو-پونے ہائی اسپیڈ کوریڈور کی تھی، جو قومی معیشت کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوتا۔

سدارامیا نے کہا کہ یہ بجٹ محض وعدوں کی فہرست ہے، کارکردگی کی نہیں۔ بیشتر مرکزی اسپانسرڈ اسکیموں میں بجٹ تخمینوں کے مقابلے میں ترمیم شدہ تخمینے کم کر دیے گئے ہیں، جس سے بجٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک، جو ملک کی جی ڈی پی میں تقریباً 8.7 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے اور فی کس ٹیکس وصولی میں سرفہرست ہے، اس کے باوجود مسلسل مالی سزا کا شکار ہے۔ یہ صورتحال وفاقی نظام کی روح کے خلاف ہے۔

مرکزی بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی کہا کہ اس بجٹ سے کرناٹک کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ وہیں کسان تنظیموں کے نمائندوں نے بجٹ کو زرعی شعبے کے لیے مایوس کن قرار دیا۔


Share: