نئی دہلی، 29 جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی):سال 2023 میں ہونے والے جئے نگر اسمبلی حلقہ کے انتخابی نتائج سے متعلق تنازع اب بھی حل طلب ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں بی جے پی کے رکن اسمبلی سی کے رام مورتی کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے انتخابی عذرداری (الیکشن پٹیشن) کی سماعت پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔
یہ انتخابی عذرداری کانگریس کی امیدوار سومیا ریڈی نے دائر کی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران انتخابی ضابطوں پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا گیا اور قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریہ پر مشتمل بنچ نے رام مورتی کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ اس فیصلے کے بعد اب ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت انتخابی عذرداری پر کارروائی آگے بڑھے گی۔
قابلِ ذکر ہے کہ 2023 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار سی کے رام مورتی نے کانگریس کی سومیا ریڈی کو نہایت معمولی فرق سے شکست دی تھی۔ تاہم سومیا ریڈی نے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے بھی رام مورتی کی جانب سے سماعت پر روک لگانے کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
ابتدائی گنتی میں سومیا ریڈی کی جیت ظاہر کی گئی تھی، لیکن بعد میں دوبارہ گنتی کے بعد نتیجہ بی جے پی امیدوار کے حق میں چلا گیا۔ سومیا ریڈی کا الزام ہے کہ دوبارہ گنتی غیر قانونی طریقے سے کی گئی اور پوسٹل بیلٹ کی دوبارہ جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے ویڈیو فوٹیج کی جانچ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اب اس انتخابی تنازع پر عدالتی کارروائی جاری رہے گی، جس پر ریاست کی سیاست میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔