ترواننتا پورم، 8/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)کیرالہ اسمبلی انتخابات سے قبل، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے وزیر اعلیٰ پی وجین کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے طرزِ حکمرانی، مبینہ سیاسی گٹھ جوڑ اور گزشتہ دہائی کے اہم تنازعات کے بارے میں کئی تیکھے سوالات پوچھے ہیں۔ انہوں نے اس خط کو عوامی خدشات کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیرالہ میں ایک اور انتخاب ہونے جا رہا ہے، لہٰذا وزیر اعلیٰ وجین کے10 سالہ دورِ اقتدار کے کئی حل طلب مسائل اب بھی عوام میں بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ ریاست کے سامنے موجود ان اہم ترین سوالات کا جواب دیں گے۔
کانگریس لیڈرکے سوالات کا محور بنیادی طور پر ریاستی حکومت اور بی جے پی کی زیرِ قیادت مرکزی حکومت کے درمیان مبینہ سمجھوتے ہیں۔ انہوں نے وجین کی نئی دہلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں، خاص طور پر حکام کی عدم موجودگی میں ہونے والی نشستوں کے بارے میں وضاحت طلب کی اور پوچھا کہ کیا ان ملاقاتوں کے دوران کوئی سیاسی لین دین ہوا تھا؟وینو گوپال نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے ساتھ ہونے والی متعدد ملاقاتوں کا بھی تذکرہ کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا دہلی سے باہر بھی کوئی غیر رسمی ملاقاتیں ہوئیں اور کیا وہ خفیہ معاہدوں سے جڑی تھیں؟
خط میں اٹھایا گیا ایک اہم مسئلہ کیرالا میں پی ایم شری اسکیم کا نفاذ ہے۔ وینوگوپال نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے ایل ڈی ایف کی اہم حلیف جماعت’سی پی آئی‘ کی مخالفت کے باوجود اس اسکیم کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ اتحادیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ خفیہ مفاہمت کا اشارہ ہے؟ انہوں نے مرکز کے لیبر قوانین کے حوالے سے ریاستی حکومت کے رویے پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ اتحادیوں سے مشاورت کیے بغیر خفیہ طور پر فیصلے کئے گئے۔ انہوں نے ٹریڈ یونین رجسٹریشن فیس میں بھاری اضافے کو پالیسی میں تبدیلی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا اور وضاحت طلب کی۔
قانونی معاملات پر،وینوگوپال نے وزیر اعلیٰ سے وابستہ ایس این سی،لاوالن کیس میں طویل عرصے سے ہونے والی تاخیر پر روشنی ڈالی اور سوال اٹھایا کہ کیا سپریم کورٹ میں بار بار ہونے والا التوا سیاسی مفادات سے جڑا تھا؟ انہوں نے وجین پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے ذاتی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں اپنے رویے میں نرمی اختیار کر لی ہے۔