ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک SIR: 98.73 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کا امکان، حتمی فیصلہ تصدیق کے بعد

کرناٹک SIR: 98.73 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کا امکان، حتمی فیصلہ تصدیق کے بعد

Sat, 01 Aug 2026 11:43:50    S O News

بنگلورو، یکم اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)کرناٹک میں جاری خصوصی انتخابی نظرِ ثانی (SIR) مہم کے دوران ووٹر فہرستوں کی جانچ میں اب تک98,73,898 ووٹروں کی اندراجات مختلف زمروں میں مشتبہ قرار دی گئی ہیں، جن کے نام تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد انتخابی فہرست سے حذف کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور ہر معاملے میں قانونی ضابطوں کے مطابق جانچ اور تصدیق کے بعد ہی کوئی کارروائی کی جائے گی۔

چیف الیکٹورل آفیسر، کرناٹک کے دفتر کی جانب سے جمعہ شام 4:00 بجےجاری یومیہ پریس نوٹ کے مطابق، 16 جون 2026تک ریاست کی ووٹر فہرست میں کل 5,54,32,314رائے دہندگان درج ہیں۔ ان تمام ووٹروں کے لیے شمارہ جاتی فارم (Enumeration Forms) شائع کرکے متعلقہ بی ایل اوز کے حوالے کر دیے گئے ہیں اور فارموں کی تقسیم کا کام 100 فیصدمکمل ہو چکا ہے۔

پریس نوٹ کے مطابق، گھر گھر سروے کی مہم 30 جون سے 8 اگست 2026 تک جاری رہے گی، جبکہ موصول ہونے والے فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن بھی اسی مدت میں انجام دی جا رہی ہے۔

اب تک 4,36,30,582 فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل ہو چکی ہے، جو مجموعی فارموں کا 78.71 فیصد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ 6,75,696 ووٹروں نے اپنے فارم آن لائن جمع کرائے ہیں۔

انتخابی حکام کے مطابق ASDDO جانچ کے دوران مشتبہ قرار دیے گئے 98,73,898 اندراجات میں مختلف اقسام شامل ہیں، جن میں 60,42,571 ایسے ووٹر ہیں جو مستقل طور پر کسی دوسرے مقام پر منتقل ہو چکے ہیں، 15,79,701ووٹروں کے انتقال کی نشاندہی ہوئی ہے، 13,77,292 ووٹر اپنے درج شدہ پتوں پر دستیاب نہیں ملے، جبکہ6,33,687 افراد کے نام پہلے ہی کسی دوسری جگہ درج پائے گئے ہیں۔ مزید 2,40,647 اندراجات دیگر زمروں میں شامل کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ یہ تمام اندراجات ابتدائی جانچ کی بنیاد پر نشان زد کیے گئے ہیں۔ ہر ووٹر کو اپنا موقف پیش کرنے اور ضروری دستاویزات فراہم کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد ہی انتخابی قوانین کے مطابق کسی نام کو برقرار رکھنے یا حذف کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

ضلع وار رپورٹ کے مطابق ریاست کے بیشتر اضلاع میں فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے اور کئی اضلاع میں یہ شرح 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ چند اضلاع میں یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔ انتخابی حکام نے متعلقہ افسران کو مقررہ مدت کے اندر سروے، تصدیق اور ڈیجیٹل اندراج کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔


Share: