نئی دہلی ، 28/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، جس کے نتیجے میں یکم مئی سے گھریلو گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مارچ کے بعد سے 14.2 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر پہلے ہی 60 روپے مہنگا ہو چکا ہے، جبکہ کمرشل سلنڈرز کی قیمتوں میں ایک ہی ماہ کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
حکومت نے ایل پی جی بکنگ کے قوانین سخت کر دیے ہیں، او ٹی پی پر مبنی ڈیلیوری تصدیق متعارف کروائی ہے اور اجولا یوجنا کے مستفیدین کے لیے آدھار ای کے وائی سی لازمی قرار دیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا تبدیلیاں آئی ہیں اور اس کا صارفین پر کیا اثر پڑے گا۔
مغربی ایشیا کے تنازعے نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس کا اثر ہندوستان میں ایل پی جی کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے۔ گزشتہ ماہ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پورے ملک میں14.2 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ کیا۔ کمرشیل صارفین کو زیادہ متاثر ہونا پڑا ہے۔19کلوگرام کے کمرشیل سلنڈر کی قیمت ایک مہینے کے اندر تین بار بڑھی ہے۔ صرف اپریل 2026میں، میٹرو شہروں میں قیمتیں 196روپے تک بڑھ گئیں، جو مارچ میں ہونے والے اضافوں کے بعد مزید اضافہ ہے۔ چونکہ ایل پی جی کی قیمتوں میں عموماً ہر مہینے کے آغاز میں رد و بدل ہوتا ہے، اس لیے اگر عالمی خام تیل کی مارکیٹ غیر مستحکم رہی تو مئی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ایل پی جی بکنگ کے قوانین بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔ شہروں میں اب صارفین کو نئی بکنگ کے لیے21دن کے بجائے 25 دن انتظار کرنا ہوگا۔ دیہی علاقوں میں یہ وقفہ 45 دن تک ہو سکتا ہے، جیسا کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے۔
ڈیلیوری کے نظام کو بھی اپڈیٹ کیا گیا ہے۔ سبسڈی والے سلنڈرز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اب ڈیلیوری کے وقت او ٹی پی کے ذریعے تصدیق لازمی ہے۔ دی اکنامکس ٹائمزکے مطابق، اس وقت تقریباً 98 فیصد بکنگ آن لائن ہوتی ہے اور قریب 94 فیصد ڈیلیوریز او ٹی پی کے ذریعے تصدیق شدہ ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ قوانین مزید سخت ہو سکتے ہیں۔
پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے تحت مستفید ہونے والوں کے لیے آدھار پر مبنی وی کے وائی سی لازمی کر دیا گیا ہے لیکن صرف ان افراد کے لیے جنہوں نے ابھی تک یہ عمل مکمل نہیں کیا۔ دیگر ایل پی جی صارفین کو ای کے وائی سی دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ پہلے ہی یہ کر چکے ہیں۔ پی ایم یو وائی کے تحت صارفین کو سبسڈی حاصل کرنے کے لیے ہر مالی سال میں ایک بار تصدیق مکمل کرنی ہوگی، خاص طور پر ساتویں ریفل کے بعد۔
ایک اور بڑی تبدیلی حکومت کی جانب سے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی)(PNG) کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ وہ گھرانے جن کے پاس پہلے سے پی این جی کنکشن موجود ہے، ممکن ہے کہ انہیں ایل پی جی استعمال جاری رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ حالیہ قواعد کے مطابق، اگر کسی گھر کوپی این جی کی سہولت ہونے کے باوجود وہ اس پر منتقل نہیں ہوتا، تو تین ماہ کے اندر ایل پی جی کی فراہمی بند کی جا سکتی ہے۔