کانگ پوکپی ، 20/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)منی پور کے کانگ پوکپی ضلع میں چھ افراد کی گرفتاری کے بعد کشیدگی بڑھ گئی۔ سیکورٹی فورسز نے انہیں کل چاوانگ کننگ گاؤں کے قریب کھلپ گاؤں سے گرفتار کیا۔ اطلاعات کے مطابق سبھی کا تعلق مسلح عسکریت پسند تنظیم سے ہونے کا شبہ ہے۔ گرفتاریوں کے بعد خواتین اور دیگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے چاوانگ کننگ گاؤں کی طرف مارچ کیا اور گرفتار افراد کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ علاقہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے۔
سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ شام تک مشتعل ہجوم نے امپھال-نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق دیما پور قومی شاہراہ-2 کو کانگ پوکپی مارکیٹ اور موٹ بنگ سمیت کئی مقامات پر بلاک کر دیا، ٹائر اور دیگر اشیاء کو جلا کر سڑک کو بلاک کر دی۔ اطلاعات کے مطابق اس کا مقصد اضافی سیکورٹی فورسز کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔
ایک سینئر سیکورٹی اہلکار کے مطابق صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اضافی دستے تعینات کیے گئے ۔ رات نو بجے کے قریب، متعدد مسافر اضافی سیکورٹی فورسز کے ساتھ موٹ بنگ علاقے میں پھنس گئے۔ اہلکار نے کہا کہ حالات کو قابو میں کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، کوبرا کی سی آر پی ایف یونٹ کی ایک ٹیم نے کل چاوانگ کننگ گاؤں کے قریب چھ افراد کو گرفتار کیا۔ گرفتار اشخاص کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ مسلح عسکریت پسند تنظیم کے کارکن ہیں۔ گرفتاریوں کے بعد علاقے میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔
اس سے قبل 16 ستمبر کو چاوانگ کننگ گاؤں میں کم از کم پانچ مکانات کو جلا دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک ہی ضلع میں دو الگ الگ حملوں میں چھ افراد کی ہلاکت کے بعد پیش آیا۔ مرنے والوں میں ایک جوڑا بھی شامل ہے۔ اس واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اب، چھ افراد کی گرفتاری کے بعد سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں نے صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔