ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مغربی بنگال ضمنی انتخاب: ممتا سے گفتگو کے بعد ربیع الاسلام نے امیدواری برقرار رکھنے کا کیا اعلان

مغربی بنگال ضمنی انتخاب: ممتا سے گفتگو کے بعد ربیع الاسلام نے امیدواری برقرار رکھنے کا کیا اعلان

Sun, 20 Sep 2026 12:03:02    S O News
مغربی بنگال ضمنی انتخاب: ممتا سے گفتگو کے بعد ربیع الاسلام نے امیدواری برقرار رکھنے کا کیا اعلان

کولکاتہ ، 20/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)سنیچر ۱۹؍ستمبرکو ریجی نگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے تناظر اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی جب ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کے امیدوار ربیع الاسلام چودھری نے اپنا نامزدگی فارم صبح کوواپس لینے کا اعلان کیا مگر دوپہر تک سابق وزیر اعلیٰ اور پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے انہیں فون کیا جس کے بعد ربیع الاسلام نے پھر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔

دراصل مغربی بنگال کی نندی گرام اور ریجی نگر اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے نامزدگی فارم واپس لینے کی آخری تاریخ۱۹؍ستمبر مقرر کی تھی۔ اس سے قبل نندی گرام سے سنچیتا پردھان نے اپنا نامزدگی فارم واپس لے کر ممتا بنرجی کو جھٹکا دیا تھا۔

ممتا بنرجی کی پارٹی کو نیا نام ا ور نشان ملنے کے چند گھنٹوں کے اندر، نندی گرام کی امیدوار سنچیتا ڈی پردھان نے اپنی نامزدگی واپس لے لی تھی۔ اس سے ریجی نگر کے امیدوار ربیع الاسلام کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی نامزدگی واپس لینے پر غور کر رہے ہیں۔ صبح۹؍بجے کے قریب میڈیا سے بات کرتے ہوئے ربیع الاسلام نے کہا کہ’’ آج میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی نام یا نشان فائنل نہیں کیا گیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ کارکنوں کو طرح طرح سے ہراساں کیا جا رہا ہے، تمام کارکن بھاگ رہے ہیں، ووٹ کس کو ملے گا؟ اگر کارکن نہیں ہوں گے تو میں اکیلا گھومتے ہوئے میں کس قسم کا شخص کہلاؤں گا۔ ‘‘

پھر دوپہرسوابارہ کے قریب ریجی نگر کے امیدوار نے اپنا موقف مکمل طور پر بدل دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی امیدواری واپس نہیں لے رہے ہیں۔ ممتا بنرجی کے اصرار پر انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ ربیع الاسلام نے کہا کہ ہماری سپریمو ممتا بنرجی کی درخواست پر میں نے اپنی امیدواری واپس لینے کا خیال ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا’’دیدی نے ہمیں بتایا۔ جب ہم دیدی کی پارٹی بناتے ہیں تو ہمیں تمام فوائد اور نقصانات پر غور کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے دیدی کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ میں دیدی کے کہنے پر اپنی امیدواری برقرار رکھ رہا ہوں۔ ‘‘ انتخابی مہم کے حوالے سے ربیع الاسلام نے کہا کہ میں آج سے انتخابی مہم شروع کروں گا، دیدی بھی انتخابی مہم میں شامل ہو سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ کانگریس کی جانب سے محمد عبداللہیل کافی ریجی نگر اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑیں گے، جبکہ ملن پردھان کو نندی گرام سے امیدوار بنایا گیا ہے۔ سی پی ایم نے ریجی نگر سے ایڈووکیٹ سعید اسد علی کو میدان میں اتارا ہے جبکہ سی پی آئی نے نندی گرام سے شانتی گوپال گری کو امیدوار بنایا ہے۔ ممتا بنرجی نے نندی گرام میں کانگریس کے امیدوار ملن پردھان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ جمعہ کو ایک پرانے معاملے میں ملن پردھان کو گرفتار کر لیا گیا۔

بی جے پی نے نندی گرام سے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کے سابق پی اے چندر ناتھ رتھ کی والدہ ہاسی رانی رتھ کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد چندر ناتھ رتھ کا قتل کر دیا گیا تھا۔ ریجی نگر سے بی جے پی نے شنکھارو سرکار کو ٹکٹ دیا ہے۔ نندی گرام میں ضمنی انتخاب کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے یہ سیٹ چھوڑ دی اور بھوانی پور سیٹ اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا، جہاں انہوں نے رواں سال کے آغاز میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کو شکست دی تھی۔ ریجی نگر سیٹ عام جنتا انّین پارٹی (اے جے یو پی) کے بانی ہمایوں کبیر کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی۔ انہوں نے ناؤدا اسمبلی سیٹ سے بھی کامیابی حاصل کی تھی۔

ہلدیا سب-ڈسٹرکٹ کورٹ نے نندی گرام اسمبلی ضمنی انتخاب سے قبل گرفتار کیے گئے کانگریس امیدوار ملن پردھان کو۱۴؍ دن کی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ جمعہ کو پولیس نے ملن پردھان کو قتل اور اقدام قتل سمیت۴؍ پرانے مقدمات میں گرفتار کیا تھا۔ کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ ممتا بنرجی کی جانب سے حمایت کے اعلان کے بعد یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے اور یہ مکمل طور پر سیاسی انتقام کا معاملہ ہے۔ بہرحال، سنیچر کو عدالت میں پیشی کے دوران گرفتار کانگریس امیدوار ملن پردھان نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی خوف زدہ ہے، اس لیے اچانک اس طرح کی کارروائی ہوئی ہے۔ ملن کی گرفتاری کے خلاف سنیچرکو ہلدیا سب-ڈسٹرکٹ کورٹ کے احاطہ میں کانگریس کارکنوں اور حامیوں نے احتجاج بھی کیا اور بی جے پی کے خلاف نعرے بازی کی۔ سینئر کانگریس لیڈران راہل گاندھی اور کھرگے نےگرفتاری کو جمہوریت کے قتل سے تعبیر کیا ہے۔ 


Share: