بینگلور، 8 اگست (ایس او نیوز): انتخابی دھاندلیوں کے خلاف جمعہ کو بینگلور میں کانگریس نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ملک بھر میں جمہوریت کے تحفظ اور بقا کیلئے "کرو یا مرو" تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔
کانگریس کے قائد اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات میں دھاندلی کی اور ووٹوں کی چوری کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ووٹ ہمارا حق ہے، لیکن چوری کر کے اقتدار حاصل کرنا ناقابل برداشت ہے۔”
راہل گاندھی نے کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگلور سنٹرل پارلیمانی حلقے کے تحت آنے والے مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ میں ووٹر لسٹ میں پائی جانے والی دھوکہ دہی کی مکمل تحقیقات کرے۔ ان کے مطابق، “یہ ایک مجرمانہ فعل ہے اور اس میں ملوث ہر افسر اور الیکشن کمشنر سے باز پرس ہونی چاہئے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کانگریس کو الیکٹرانک ڈیٹا فراہم کرے تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ کس طرح ملک بھر میں انتخابات کے دوران ووٹوں کی چوری ہوئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی صرف 25 نشستوں کے کم فرق سے اقتدار میں آئے اور ان میں سے ایک نشست کی چوری کے شواہد وہ پیش کر چکے ہیں۔
راہل گاندھی نے مزید کہا، "اگر ہمیں الیکٹرانک ڈیٹا اور ویڈیو گرافی کا ریکارڈ مل گیا تو یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ کرناٹک میں ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں کئی نشستیں چوری ہوئیں۔" انہوں نے الیکشن کمیشن کے افسران کو متنبہ کیا کہ وہ بی جے پی کا آلہ کار بننے کے بجائے آئین کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری ادا کریں، کیونکہ "ایک فرد، ایک ووٹ" آئین کا بنیادی اصول ہے اور اس پر حملہ دراصل آئین پر حملہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر الیکشن کمیشن ڈیٹا فراہم نہ بھی کرے تو کانگریس کاغذی ریکارڈ کی بنیاد پر اپنی تحقیقات جاری رکھے گی، جیسا کہ ایک اسمبلی حلقہ میں چھ ماہ کی تفتیش کے بعد حقائق سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا، “ہم 20 سے 25 مزید اسمبلی حلقوں کی جانچ کریں گے، سچائی بھی سامنے آئے گی اور ذمہ دار بھی چھپ نہیں سکیں گے۔”
اس موقع پر پارٹی کے صدر ملیکارجن کھرگے نے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ 8 اگست 1942 کی "ہندوستان چھوڑو تحریک" سے تحریک لیں۔ انہوں نے کہا، “آج ہماری جمہوریت اور شہری مراعات خطرے میں ہیں، ہمارے ووٹ کا حق چھینا جا رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے کرو یا مرو کی جدوجہد ہے اور ہمیں آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے فیصلہ کن اقدام کرنا ہوگا۔”
کانگریس رہنماؤں نے واضح کیا کہ جب تک انتخابی شفافیت اور جمہوری اقدار بحال نہیں ہوتیں، یہ تحریک ملک گیر سطح پر جاری رہے گی۔