ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاست میں ’پرجا سیوا آندولن‘ کے تحت 99,142 درخواستیں نمٹائی گئیں، 91 فیصد کامیابی حاصل: وزیر لکشمن ساودی

ریاست میں ’پرجا سیوا آندولن‘ کے تحت 99,142 درخواستیں نمٹائی گئیں، 91 فیصد کامیابی حاصل: وزیر لکشمن ساودی

Sat, 07 Nov 2026 18:46:10    S O News
ریاست میں ’پرجا سیوا آندولن‘ کے تحت 99,142 درخواستیں نمٹائی گئیں، 91 فیصد کامیابی حاصل: وزیر لکشمن ساودی

کاروار، 7/ نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کے وزیر برائے تعاون اور ضلع انچارج وزیر لکشمن ساودی نے بتایا کہ ریاست بھر میں عوام کی دہلیز پر پہنچ کر ان کی شکایات اور مسائل سننے اور فوری حل فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کیے گئے ’پرجا سیوا آندولن‘ پروگرام کے تحت اب تک موصول ہونے والی 1,08,057 درخواستوں میں سے 99,142 درخواستوں کو نمٹایا جاچکا ہے، جو مجموعی طور پر 91 فیصد پیش رفت ہے۔

وہ ہفتہ کو سرسی کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر بھون میں ضلع انتظامیہ، ضلع پنچایت، تعلقہ انتظامیہ، سٹی میونسپل کونسل اور تعلقہ پنچایت کے اشتراک سے منعقدہ تعلقہ سطح کے پرجا سیوا آندولن پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں عوام ہی حقیقی مالک ہوتے ہیں، جبکہ عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران کی ذمہ داری ان کی خدمت کرنا ہے۔ اسی نظریے کے تحت وزیر اعلیٰ کے تصوراتی پروگرام ’پرجا سیوا آندولن‘ کا ریاست بھر میں ہر ہفتہ منعقد کیا جارہا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کے گھروں تک پہنچ کر ان کی شکایات سننا اور ممکنہ حد تک موقع پر ہی مسائل حل کرنا ہے۔

لکشمن ساودی نے بتایا کہ ضلع اتر کنڑا میں اس پروگرام کے تحت اب تک 4,879 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 4,694 درخواستوں کو نمٹایا جاچکا ہے۔ اس طرح ضلع میں 96 فیصد پیش رفت درج کی گئی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ عوام کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں پر زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر کارروائی مکمل کرکے مسائل حل کیے جائیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع میں فصلوں کو نقصان پہنچنے والے کسانوں کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے موسم پر مبنی فصل بیمہ کی رقم جاری کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 22,675 ہیکٹر اراضی پر کاشت کی گئی باغبانی فصلوں کے لیے کسانوں کے حصے سمیت مجموعی طور پر 62 کروڑ روپے کی بیمہ رقم کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے زراعت اور باغبانی کے محکموں کے افسران کو ہدایت دی کہ بیمہ کی رقم مستحق کسانوں تک صحیح طور پر پہنچائی جائے۔

وزیر نے کہا کہ درخواستوں پر افسران کو ایک ہفتے سے 10 دن کے اندر کارروائی مکمل کرنی چاہیے، جبکہ ناگزیر حالات میں زیادہ سے زیادہ 15 دن کی مہلت دی جاسکتی ہے۔ اگر کسی درخواست پر مسئلہ حل کرنا ممکن نہ ہو تو متعلقہ درخواست گزار کو واضح اور درست جواب دیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ضلع میں زیر التوا ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے اور آئندہ کے ترقیاتی اہداف پر تبادلہ خیال کے لیے 19 نومبر کو سہ ماہی کے ڈی پی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

لکشمن ساودی نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ریاست کی تمام گرام پنچایتوں کی ترقی کے لیے ایک کروڑ روپے، ہر اسمبلی حلقے میں سڑکوں کی ترقی کے لیے 50 کروڑ روپے اور شہری مقامی اداروں کے لیے 10 سے 20 کروڑ روپے تک فنڈ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں کی ترقیاتی ضروریات اور مطالبات کے سلسلے میں درخواستیں پیش کریں۔

اس موقع پر سرسی۔سداپور کے رکن اسمبلی بھیمنا نائک نے کہا کہ پرجا سیوا آندولن کے ذریعے عوام کو حکومت کی مختلف سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ دیہی علاقوں میں بنیادی ضروریات مثلاً پانی، سڑک، بجلی، اسکول اور کالج جیسی سہولتوں کے مسائل بھی حل کیے جائیں گے۔ زراعت اور باغبانی سے متعلق سہولتوں سے محروم افراد کو بھی ایک ہی پلیٹ فارم پر مدد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ سرسی کی ماریکامبا جاترا کے دوران رتھ کے گزرنے والے راستے پر بجلی کی تاروں سے متعلق مسائل دور کرنے کے لیے 3 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں اور اس کام کا سنگ بنیاد بھی ضلع انچارج وزیر نے رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خشک سالی کے باوجود ریاست کے عوام کو پنچ گارنٹی اسکیموں سے بڑی راحت ملی ہے اور حکومت اس علاقے کی مجموعی ترقی کے لیے مزید فنڈز حاصل کرکے ترقیاتی کام انجام دے گی۔

پروگرام میں یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار، ضلع گارنٹی اسکیموں کے نفاذی اتھارٹی کے صدر ستیش نائک، تعلقہ گارنٹی کمیٹی کی صدر سوما اَگرنکار، شہری منصوبہ بندی اتھارٹی کے صدر جگدیش، ڈپٹی کمشنر کے لکشمی پریا، ضلع پنچایت کے سی ای او ڈاکٹر دلیش ششی، ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن ایم این، ڈپٹی کنزرویٹر آف فاریسٹ یوگیش، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساجد ملا، کاروار کے اسسٹنٹ کمشنر رمیا اور سرسی کے اسسٹنٹ کمشنر چندرشیکھر سمیت دیگر افسران موجود تھے۔


Share: