ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / انتخابی نظام پر سوالیہ نشان، پریانک کھرگے کا شفاف آڈٹ کا مطالبہ

انتخابی نظام پر سوالیہ نشان، پریانک کھرگے کا شفاف آڈٹ کا مطالبہ

Thu, 21 Aug 2025 17:47:27    S O News

نئی دہلی/بنگلورو، 21 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی):ہریانہ کے پانی پت ضلع کے بُوانا لکھو گاؤں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی دوبارہ گنتی کے سپریم کورٹ کے حکم اور پہلے سے اعلان شدہ نتیجہ کو منسوخ کرنے کے فیصلے نے ایک بار پھر ملک کے انتخابی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

کرناٹک کے وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی پریانک کھرگے نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس شبے کو درست ثابت کرتا ہے جو طویل عرصے سے عوام اور ماہرین کے ذہنوں میں پایا جاتا ہے کہ ہمارے انتخابی نظام میں سنگین خامیاں اور کمزوریاں موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہر وقت یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ ای وی ایم مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطرات انتخابی عمل کے ہر مرحلے پر موجود ہیں۔ خواہ وہ انتخابات سے قبل کی تیاری ہو، ای وی ایم کی ذخیرہ اندوزی اور تقسیم، پولنگ کے دن کا عمل ہو یا پھر پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی اور مشینوں کی منتقلی، کمزوریاں ہر جگہ نمایاں ہیں۔

پریانک کھرگے نے یاد دلایا کہ انہوں نے 3 دسمبر 2024 کو الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر عدالت کی نگرانی میں ’’ایتھیکل ہیکاتھون‘‘ اور تکنیکی آڈٹ کرانے کی تجویز دی تھی تاکہ شفاف طریقے سے نظام کی خامیوں کو پرکھا اور درست کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک حکومت اس عمل کے لیے تمام وسائل فراہم کرنے کو تیار ہے اور ریاست میں موجود تکنیکی ماہرین اور تعلیمی ادارے اس مقصد کے لیے بہترین سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہریانہ کا حالیہ واقعہ اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ انتخابی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔


Share: