واشنگٹن/تہران 22/اپریل (ایس او نیوز/رائیٹرس/واشنگٹن پوسٹ): امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے ممکنہ مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان نازک جنگ بندی کے باوجود حالات بدستور کشیدہ ہیں اور کسی بھی وقت صورتحال بگڑنے کا خدشہ برقرار ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، دو ہفتوں پر مشتمل عارضی جنگ بندی اپنی مدت پوری کرنے کے قریب تھی، جس کے پیش نظر پاکستان میں مجوزہ مذاکرات پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز تھیں، تاہم حالیہ پیش رفت نے ان مذاکرات کے انعقاد پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
ایران کا سخت موقف؛ دباؤ میں مذاکرات سے انکار
ایرانی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایسے کسی بھی مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے جو دباؤ، دھمکی یا "ہتھیار ڈالنے" کے مترادف ہوں۔ ایران نے شرط رکھی ہے کہ امریکہ اپنی پابندیاں اور بحری ناکہ بندی ختم کرے، تب ہی بامعنی مذاکرات ممکن ہو سکیں گے۔
ایرانی قیادت نے امریکی اقدامات، خصوصاً ایرانی بحری جہاز کی ضبطی اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
امریکہ کا دوہرا پیغام؛ مذاکرات بھی، جنگ کی تیاری بھی
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے تاکہ سفارتی عمل کو موقع دیا جا سکے، جبکہ دوسری طرف انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر ساتھ ہی ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پاکستان کی ثالثی؛ مگر مذاکرات تعطل کا شکار
پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور اسلام آباد کو مذاکرات کے ممکنہ مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے واضح رضامندی نہ آنے کے باعث مذاکرات کا انعقاد غیر یقینی ہو گیا ہے۔
کچھ رپورٹس کے مطابق، مذاکراتی وفود کی آمد میں بھی تاخیر ہوئی ہے اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں فی الحال ملتوی ہو چکی ہیں۔
عالمی معیشت پر اثرات؛ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
امریکہ۔ایران کشیدگی اور مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اس تنازعے کا مرکز بنا ہوا ہے۔ �
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا یا مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو گئے تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
غیر یقینی مستقبل
موجودہ صورتحال میں امریکہ اور ایران دونوں بظاہر مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے، مگر باہمی عدم اعتماد، سخت بیانات اور جاری فوجی و اقتصادی دباؤ نے امن عمل کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جلد کوئی سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔