کولکاتہ، 7/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)مغربی بنگال میں انتخابی نتائج کے بعد ترنمول کانگریس نے بدھ کے روز کولکاتہ کے کالی گھاٹ میں اپنے نو منتخب اراکین اسمبلی اور سینئر رہنماؤں کا اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں پارٹی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے شرکت کی۔ اجلاس میں پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی، تنظیمی اتحاد اور انتخابی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے واضح انداز میں کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی انہیں اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے تو وہ انہیں برخاست کر سکتا ہے۔ ممتا بنرجی نے پارٹی اراکین اور نومنتخب لیڈران سے اپیل کی کہ وہ اسمبلی کے پہلے دن سیاہ لباس پہن کر پہنچیں تاکہ اسے ایک ’سیاہ دن‘ کے طور پر درج کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کو مضبوط رہنے کی ضرورت ہے اور سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔ ممتا بنرجی نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے اندر جن لوگوں نے دھوکہ دیا، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی طور پر شکست کے باوجود وہ اخلاقی طور پر اپنے مخالفین کو ہرا چکی ہیں اور مستقبل میں بھی عوام کے لیے لڑائی جاری رکھیں گی۔
ترنمول کانگریس سربراہ نے انتخابی عمل پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی پارٹی کے امیدواروں کو زبردستی ہرایا گیا۔ انہوں نے مغربی بنگال پولیس، سی آر پی ایف، چیف الیکشن افسر اور الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا۔ ممتا بنرجی کے مطابق ریاست بھر میں پارٹی کے 1500 سے زیادہ دفاتر پر قبضہ کیا گیا اور کارکنوں کو دباؤ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی ماحول کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور انہیں دھکا دیا گیا، جس کے باعث انہیں سینے میں درد محسوس ہوا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ آزادانہ اور منصفانہ انتخاب نہیں تھا بلکہ ظلم کے مترادف تھا۔
انہوں نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ اور وزیر اعظم براہ راست پوری صورتحال میں شامل تھے۔ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ مغربی بنگال میں ’انڈیا‘ اتحاد اب متحد ہو چکا ہے اور اپوزیشن کے طور پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
میٹنگ کے بعد ترنمول کانگریس نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد پارٹی قیادت اور کارکنوں میں نیا اعتماد پیدا کرنا تھا۔ پارٹی کے مطابق ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی نے رہنماؤں کو آئندہ سیاسی لڑائی کے لیے حوصلہ اور واضح سمت فراہم کی۔