ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / تمل ناڈو میں وجے کی کامیابی سے سیاسی منظرنامہ تبدیل، کانگریس کیلئے 60 سال بعد کابینہ میں شمولیت کا موقع

تمل ناڈو میں وجے کی کامیابی سے سیاسی منظرنامہ تبدیل، کانگریس کیلئے 60 سال بعد کابینہ میں شمولیت کا موقع

Thu, 07 May 2026 11:29:41    S O News
تمل ناڈو میں وجے کی کامیابی سے سیاسی منظرنامہ تبدیل، کانگریس کیلئے 60 سال بعد کابینہ میں شمولیت کا موقع

چنئی ، 7/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے۔ تھلاپتی جوزف وجے چندرشیکھر کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ ۱۰۸؍ سیٹیں جیت کر ریاست کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔اس کے باوجود اکثریت سے وہ ۱۰؍ سیٹیں  دور رہ گئی۔ ’ٹی وی کے‘ کا اکثریت سے دور رہناکانگریس کیلئے ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہورہا ہے اور اسے کابینہ میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ تمل ناڈو کی تاریخ میں یہ موقع ۶۰؍ سال بعد آرہا ہے جب کابینہ میں کانگریس کی شمولیت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کو ۲؍ وزارتیں ملنے کا امکان ہے، اوریہ بھی کہا جارہا ہے کہ کولاچل سیٹ جیتنے والی کانگریس کی ایم ایل اے ’ڈاکٹر تھار ہائی کوتھبرٹ‘ وزارتی عہدے کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔

یہ صرف ایک ایم ایل اے کے وزیر بننے کی بات نہیں ہے بلکہ۶۰؍ سالہ سیاسی خلیج کو ختم کرنے اور سماجی انصاف کی ایک نئی مثال قائم کرنے کی بھی بات ہے۔کولاچل سیٹ پر۲۰۲۶ء کے اسمبلی انتخابات میں سخت مقابلہ تھا۔ ریاست میں ’ٹی وی اے‘ کی آندھی کے درمیان اس کے امیدوار کو ۶۳؍ ہزار۳۷۴؍ ووٹ ملے جبکہ ڈاکٹر تھارہائی کوتھبرٹ نے ۶۶؍ ہزار۲۰۷؍ ووٹ حاصل کر کے ۲؍ ہزار ۸۳۳؍ووٹوں کے فرق سےکامیابی حاصل کی۔اس طرح کانگریس نے کنیا کماری ضلع کے اس ماہی گیر اکثریتی علاقے میں اپنی گرفت برقرار رکھی ۔تھارہائی نے اس سے قبل ۲۰۲۴ء  کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی امیدوار کو تقریباً۴۰؍ ہزار ووٹوںسے ہرایا تھا۔ اب۲۰۲۶ء میں کولاچل سے انتخاب لڑ کر انہوں نے ثابت کر دیا کہ کانگریس کی مقامی بنیاد مضبوط ہے۔

ڈاکٹر تھارہائی (عمر ۵۱؍ سال) کا تعلق کنیا کماری ضلع کے ماہی گیر (رومن کیتھولک ماہی گیر) برادری سے ہے۔ ان کا سیاسی سفر کانگریس کے ساتھ ہی شروع ہوا۔ وہ کانگریس خواتین ونگ کی سرگرم کارکن رہیںاور ضلعی سطح  کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کنیا کماری مغربی ضلع صدر کے عہد ے پر فائز رہیں۔ وہ اے آئی سی سی کی رکن کے طور پر بھی سرگرم تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اسی کولاچل علاقے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں۶۲۔۱۹۵۷ءکے دوران ’کے کامراج‘ کابینہ میں ’لوردھمل سائمن‘ تمل ناڈو کی پہلی خاتون وزیر بنی تھیں۔ کانگریس نے۱۹۶۲ء سے یہاں ماہی گیر برادری سے کوئی خاتون امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ ۶۴؍ سال بعد تھارہائی  نے اس خلا کو پر کیا۔

رپورٹ کے مطابق تھار ہائی کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ انہوں  نے ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کی توجہ ہمیشہ مقامی مسائل  سڑکیں، پانی اور ماہی گیروں کی روزی روٹی پر رہی ہے۔اتحادی مذاکرات کے آخری مراحل کے دوران، تھارہائی نے انسٹاگرام پر تھلاپتی وجے کے ساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔

ساتھ میں تمل ناڈو کانگریس کے صدر سیلواپرنڈائی، اے آئی سی سی انچارج کرشنا چوڈانکر اور سیکریٹری نیویدتھ الوا بھی موجود تھے۔ پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ اتحاد کے موضوع پر مثبت گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد یہ تصویر کانگریس اور ٹی وی کے اتحاد کی علامت بن گئی۔۱۹۶۷ء میں دراوڑ پارٹیوں کے عروج کے بعد سے، کانگریس تمل ناڈو میں حکمران اتحاد کا حصہ بننے میں ناکام رہی ہے۔ کامراج دور کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کابینہ میں شامل ہو گی۔

 خواتین کو بااختیار بنانے کا عمل تیز ہوگا یعنی ماہی گیر برادری سے تعلق رکھنے والی ایک بیٹی وزیر بنے گی۔ اور دوم:سماجی انصاف کا عمل بھی تیز ہوگا یعنی تمل ناڈو کے ساحلی علاقوں کے دیرینہ مطالبات کو آواز ملے گی۔

اس موقع پر کانگریس قیادت نے واضح کیا ہے کہ عوام نے ایک سیکولر حکومت کو مینڈیٹ دیا ہے،اسلئے وہ ’ٹی وی اے‘ کو مشروط حمایت دے رہی ہے۔ یہ حمایت صرف اقتدار کیلئے نہیں ہے بلکہ طویل مدتی شراکت داری کی علامت ہے۔’ ٹی وی کے‘کی کامیابی نوجوانوں اور ان کی تبدیلی کی خواہش پر منحصر ہے۔ ایسے میں کانگریس کی ۵؍ سیٹوں کی حمایت اسے استحکام فراہم کر رہی ہے۔ تھارہائی جیسے چہرے اتحاد کو ساحلی خطے اور اقلیتی ووٹ بینک میں گہرائی فراہم کرتے ہیں۔ کنیا کماری ضلع میں’ٹی وی اے‘کو روکنا کانگریس کی بڑی جیت ہے۔ وجے کی کابینہ’کیبینیٹ آف فرسٹ‘ ثابت ہو سکتی ہے ’نوجوان چہرہ، خواتین کی نمائندگی اور سماجی شمولیت۔‘ تھارہائی کی تقرری سے نہ صرف کانگریس کارکنوں کو تقویت مل رہی ہے بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے اور ریاست بھر میں ماہی گیر برادری کی ترقی کا بھی پیغام جاتا ہے۔


Share: