کولکاتہ ، 7/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) اسمبلی انتخاب کے نتائج اور بی جےپی کی فتح کے بعد مغربی بنگال میں بھگوا عناصر بے قابو نظر آرہے ہیں۔ریاست میں دھمکیوں، حملوں اور قتل کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ شوبھندو ادھیکاری اور سامک بھٹاچاریہ جیسے بی جےپی لیڈروں نے امن کی اپیل کی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تشددکا الزام بی جےپی نے مضحکہ خیز طو رپر یہ کہہ کر ٹی ایم سی پر تھوپ دیا ہے کہ اس کے کارکن بی جےپی کے پرچم لہرا کر اور مفلر پہن کر تشدد برپا کر رہے ہیں۔
کولکاتا سے شائع ہونےوالے اخبار ’’ٹیلی گراف‘‘کی رپورٹ کے مطابق پیر کی رات اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد سے پھوٹ پڑنےوالے تشدد میں ریاست میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔الزام ہے کہ شمالی چوبیس پرگنہ میں بی جےپی کارکن مدھومنڈل کا قتل ہوا جبکہ بیربھوم میں ٹی ایم سی حامی عبیر شیخ کو جان سے مار دیاگیا۔ مختلف علاقوں سے وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ترنمول کانگریس کے کئی دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی یا ان پر قبضہ کر لیا گیا۔ اخبار نے اپنے قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہےکہ کولکاتا میں ایک معروف اسکول کے بس اٹینڈنٹ نے بدھ کی صبح اسکولی طلبہ کو مبینہ طور پر’’جے شری رام‘‘کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔
شوبھندوادھیکاری، جنہوں نے بھوانی پور سے ممتا بنرجی کو شکست دی اور نندی گرام سے بھی کامیابی حاصل کی اور جنہیں اگلے وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں سب سے آگے سمجھا جا رہا ہے، نے بدھ کو کہا کہ ’’کسی کو بھی تشدد میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ یہی بی جے پی اور ترنمول کے درمیان فرق ہے۔ ہر شخص کو اپنی سیاسی سوچ پر عمل کرنے کا حق ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔‘‘بنگال بی جے پی صدر سامک بھٹاچاریہ نے بھی خبردار کیا کہ تشدد میں ملوث پارٹی کارکنوں کو معطل کر دیا جائے گا۔ وہ منگل کو کہہ چکے ہیں کہ ’’ہم بنگال میں سیاسی تشدد کی روایت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘‘
ٹی ایم سی لیڈر اور ممتاحکومت میں پارلیمانی امور کے وزیر شوبھندیب چٹوپادھیائے کو منگل کی دیر رات کولکاتا کے بھوانی پور میں ان کی رہائش گاہ پر بی جے پی کے مبینہ حامیوں نے گالیاں دیں اور دھمکیاں دیں۔ شوبھندیب نے ا لزام لگایا کہ’’۱۰؍افراد کا ایک گروپ میرے گھر آیا اور مجھے گالیاں دینے لگا ۔اس نے مجھے گھر سے باہر نکلنے پر قتل کی دھمکی دی۔ ‘‘شمالی ۲۴؍پرگنہ میں ۲؍ گروپوں کے درمیان فائرنگ میں ۲؍ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بنگال کے چیف الیکٹورل افسر منوج کمار اگروال اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو تشدد میں ملوث افراد کو فوراً گرفتارکرنے کی ہدایت دی ہے ۔
ٹی ایم سی کا الزام ہےکہ الیکشن میں جیت کے نشے میں چور بی جےپی کارکنوں نے بلڈوزر کے ساتھ جشن منایا اور اس دوران کولکاتا کے’’نیو مارکیٹ‘‘ علاقے میں گوشت کی کچھ دکانیں توڑ دیں۔ ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ بنگال بھر میں بی جےپی کارکنوں کی غنڈہ گردی پر مرکزی فوجی دستے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
کولکاتا کے پولیس کمشنر اجے نند نے واضح کیا ہے کہ ’’جے سی بی یا بلڈوزر جیسے آلات کے ساتھ کسی بھی قسم کی ریلی یا جلوس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جے سی بی مالکان اپنی گاڑیاں ایسے مقاصد کیلئے کرائے پر فراہم کریں گے تو ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم ’نیو مارکیٹ‘ واقعہ کے تعلق سے پولیس کمشنر نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔