ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / 2014کے بعد مسلم نمائندگی میں مسلسل گراوٹ، ریاستی اسمبلیوں میں مسلم اراکین کی تعداد گھٹ کر 282 رہ گئی

2014کے بعد مسلم نمائندگی میں مسلسل گراوٹ، ریاستی اسمبلیوں میں مسلم اراکین کی تعداد گھٹ کر 282 رہ گئی

Thu, 07 May 2026 10:57:55    S O News

ممبئی، 7/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)  2014   سے ملک میں  بی جےپی کے عروج  نے ہندوستان  کے سیاسی منظرنامے کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کا ایک نمایاں نتیجہ ریاستی اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی میں تیزی کے ساتھ کمی کی شکل میں برآمد ہوا ہے۔

2013میں ملک بھر میں مسلم اراکین اسمبلی کی تعداد339 تھی جو اب گھٹ کر تقریباً 282 رہ گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار ’انڈین ایکسپریس‘ میں  ذیشان شیخ  نے اپنی ایک رپورٹ میں پیش کئے ہیں۔ان کے تجزیہ کے مطابق  سب سے زیادہ کمی بڑی ریاستوں میں دیکھی گئی۔ اتر پردیش میں مسلم ایم ایل ایز کی تعداد تقریباً نصف ہو کر63 سےگھٹ کر 31 رہ گئی ہے۔ مغربی بنگال میں یہ تعداد59 سے کم ہو کر37 ہوگئی ہے۔ اسی طرح بہار 19 مسلم رکن اسمبلی تھے ،   گھٹ کر۱۱؍  رہ گئے ہیں۔ راجستھان میں بھی مسلم ایم ایل ایز کی تعداد11سے کم ہو کر6 ہوگئی ہے۔یہ کمی اس لئے زیادہ اہم  ہے کہ ان ریاستوں  میں ملک کی مسلم آبادی کا بڑا حصہ رہتاہے۔ اتر پردیش کی آبادی میں مسلمان 19فیصد ہیں لیکن اسمبلی میں ان کی نمائندگی8 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ مغربی بنگال میں مسلم آبادی تقریباً 27 فیصد ہے مگر اسمبلی میں ان کا حصہ ۱۲ء۶؍ فیصد ہے۔ بہار میں مسلم آبادی تقریباً17 فیصد ہے لیکن اسمبلی میںمسلم اراکین صرف ۴ء۵؍ فیصد  ہیں۔

ایسا ہی فرق دیگر ریاستوں میں بھی نظر آتا ہے۔ آسام میں مسلمان آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ ہیں، مگر اسمبلی میں ان کی نمائندگی تقریباً 17 فیصد ہے۔ مہاراشٹر اور کرناٹک میں مسلم ایم ایل ایز کی تعداد صرف۳؍ سے۴؍ فیصد کے درمیان ہے جبکہ ان ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی  10فیصد سے زیادہ ہے۔

 جن ریاستوں میں مسلم نمائندگی نسبتاً بہتر تھی، وہاں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔  کیرالہ میں مسلم ایم ایل ایز کی تعداد۳۶؍ سے کم ہو کر۳۴؍ہوگئی ہے جبکہ کرناٹک میں11 سے گھٹ کر9 رہ گئی۔ گجرات میں تعداد2 تھی جو اب  ایک ہوگئی ہےجبکہ چھتیس گڑھ اسمبلی میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے نہیں ہے۔ اس وقت 7 ریاستوں  اروناچل پردیش، گوا، ہماچل پردیش، میزورم، ناگالینڈ، سکم اور چھتیس گڑھ  میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے نہیں  ہے۔تاہم  اس معاملے میں چند استثنیٰ بھی ہیں۔تمل ناڈو میں مسلم اراکین اسمبلی کی تعداد8 سے بڑھ کر9ہوگئی ہے جبکہ مدھیہ پردیش اور میگھالیہ میں بھی معمولی اضافہ ہوا ہے۔ جموںکشمیر میں مسلم ایم ایل ایز کی تعداد سب سے زیادہ  ہے مگر یہاں بھی کمی آئی ہے۔ پہلے58  ایم ایل اے تھے اب 51 ہیں۔ مسلم اراکین اسمبلی کی پارٹیوں سے وابستگی  کے لحاظ سے دیکھیں تو  سب سے زیادہ 61 ایم ایل اے کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد نیشنل کانفرنس کے39، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے34-34مسلم ایم ایل  اےہیں۔مسلم اراکین کی اس فہرست میں بی جےپ کے صرف 2 ایم ایل اے ہیں ۔ ایک منی پور سے اچب الدین اور  دوسرے تریپورہ سے تفضل حسین ہیں۔ 


Share: