ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / برطانیہ میں سیاسی بحران، کیئر اسٹارمر کے استعفیٰ کی قیاس آرائیاں

برطانیہ میں سیاسی بحران، کیئر اسٹارمر کے استعفیٰ کی قیاس آرائیاں

Sun, 17 May 2026 13:01:38    S O News
برطانیہ میں سیاسی بحران، کیئر اسٹارمر کے استعفیٰ کی قیاس آرائیاں

لندن، 17/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی ) برطانیہ میں سیاسی بحران کے درمیان برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر عہدے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنی شرائط پر۔ یو کے میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں لیبر حکومت ووٹروں کی ناراضگی اور داخلی خلفشار سے دوچار ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں ناقص کارکردگی اور کابینی وزراء کے استعفوں نے موجودہ بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

برطانوی سیاست میں اتھل پُتھل کے درمیان وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے قریبی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ کے ایک رکن نے کہا کہ اسٹارمر وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں لیکن وہ اپنی شرائط  پر ایسا کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ موجودہ افراتفری زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی۔ وہ صرف باوقار انداز میں اور اپنی پسند کے مطابق ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کے لیے ٹائم ٹیبل خود بتائیں گے۔

اسٹارمر انتظامیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے ووٹروں کے عدم اطمینان کے درمیان یوکے کی لیبر حکومت خود کو بحران میں محسوس کررہی ہے۔ پیٹر مینڈیلسن کی تقرری اور بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے لیے بدنام  جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے روابط سے لے کر بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی تک، اسٹارمر کے استعفیٰ کے مطالبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

تازہ ترین جھٹکا اس وقت لگا جب اسٹارمر کی کابینہ میں سابق ہیلتھ سکریٹری ویس اسٹریٹنگ نے استعفیٰ دے دیا۔ ہفتے کے روز اسٹریٹنگ نے اعلان کیا کہ وہ مستقبل میں لیبر لیڈر شپ کے کسی بھی مقابلے میں اسٹارمر کو چیلنج کریں گے اور وزیر اعظم عہدے کے لیے اپنی دعویداری پیش کریں گے۔ اپنی تقریر کے دوران سابق ہیلتھ سکریٹری نے اسٹارمر سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے آخری وقت کی حد طے کریں۔

موجودہ افرا تفری کے درمیان کیئر اسٹارمر کی مقبولیت میں بھی تیزی سے گراوم آئی ہے۔ ’یو گو یوکے‘  کے سروے کے مطابق تقریباً 69 فیصد برطانوی شہری  لیبر پارٹی کے اس رہنما کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ ’یو گو‘ نے مزید بتایا کہ اسٹارمر اس وقت ریکارڈ پر سب سے کم مقبول وزیر اعظم ہیں۔ کئی لوگ ان کا موازنہ لز ٹرس کے برطانیہ کے وزیر اعظم کے طور پر 49 دنوں کے دور سے کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اسٹارمر کی اپنی پارٹی کا بھی ان کی قیادت پر سے بھروسہ اُٹھتا نظر آرہا ہے۔ لیبر پارٹی کے کئی ممبران پارلیمنٹ کو اب خدشہ ہے کہ اگر اسٹارمر کی غیر مقبولیت جاری رہی تو اس سے مستقبل میں لیبر حکومت کی تشکیل کے امکانات خطرے میں پڑ جائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ملک ’ریفارم یو کے‘ کے رہنما نائجل فاریج کی قیادت والے انتہائی دائیں بازو کے گروپ کے ہاتھوں میں چلا جائے۔


Share: