نیویارک ، 16/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں جاری تشدد، نقل مکانی اور انسانی بحران سے بچوں پر بدترین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ملک میں جنگ بندی کے باوجود گزشتہ ۷؍دن میں ہی کم از کم۵۹؍بچے ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ یونیسف نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے ۲؍ بچے بھی شامل تھے جو بدھ کی صبح اپنی والدہ کے ساتھ گاڑی میں فضائی حملے کا نشانہ بنے۔ بچوں کو متواتر سنگین خطرات اور اپنے حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے۔ ادارے نے لبنانی وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ۱۷؍ اپریل کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد کم از کم۲۳؍ بچے ہلاک اور ۹۳؍ زخمی ہو چکے ہیں۔ ۲؍مارچ سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد اب تک مجموعی طور پر۲۰۰؍ بچے ہلاک اور۸۰۶؍ زخمی ہوئے ہیں۔ اس طرح روزانہ اوسطاً۱۴؍ بچے ہلاک یا زخمی ہوتے رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لئے یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے کہا ہے کہ بچوں کو ایسے وقت میں قتل اور زخمی کیا جا رہا ہے جب انہیں اسکول واپس جانا چاہئے، اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا چاہئے اور کئی ماہ خوف و ہراس کا سامنا کرنے کے بعد اب معمول کی زندگی کی طرف لوٹنا چاہئے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کا تحفظ یقینی بنائیں، بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کریں اور جنگ بندی برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات کے نئے دور کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بات چیت موثر اور پائیدار جنگ بندی کے قیام اور مستقل امن کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس نے بتایا ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں فضائی حملوں اور عسکری سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جن میں گزشتہ روز اسرائیلی فضائی کارروائیاں بھی شامل ہیں جو اس کے مغربی اور مشرقی سیکٹر میں کی گئیں۔
فورس کے مطابق اس نے اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ کے تقریباً۴۵۵؍ واقعات ریکارڈ کئے جبکہ لبنان میں غیر ریاستی عناصر، بشمول حزب اللہ کی جانب سے ۶؍ راکٹ یا گولے داغے جانے کے واقعات بھی پیش آئے۔