نئی دہلی، 16/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی ) انڈین میڈیکل اسوسی ایشن(آئی ایم اے) نےبھی نیٹ امتحان کی مرکزیت کی مخالفت کی ہے۔ اسوسی ایشن نے مرکزی وزارت داخل کو ایک خط لکھ کر مشورہ دیا ہے کہ ’نیٹ - یو جی‘ امتحان کے انعقاد کو غیرمرکزی بنایا جائے اور اس کی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو زیادہ دی جائے۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو لکھے گئے خط میں پرچہ لیک ہونے اور امتحانی عمل متاثر ہونے پر ’’گہری تشویش اور شدید مایوسی‘‘ کا اظہار کرتےہوئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) اور اس میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیاگیاہے۔ اُدھر دہلی اور یوپی میں دو امیدواروں نے پرچہ لیک ہوجانے سے دل برداشتہ ہوکر خود کشی کرلی۔ راہل گاندھی نے اس معاملے کو پوری شدت سے اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خود کشی نہیں’’انتظامیہ کے ہاتھوں قتل‘‘ ہے۔
آئی ایم اے نے کہا کہ این ٹی اے کی جانب سے منعقد کیے جانے والے نیٹ-یو جی امتحان کو گزشتہ ۴؍برسوں میں بار بار تنازعات کا سامنا رہا ہے۔ ۲؍مرتبہ پرچہ لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے سبب امتحان منسوخ کیاگیا۔ اسوسی ایشن کے مطابق ان واقعات نے۲۲ء۵؍ لاکھ سے زائد طلبہ اور ان کے خاندانوں کو ذہنی صدمے، دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا ہے۔واضح رہے کہ نیٹ-یو جی۲۶ء میں۲۲ء۵؍ لاکھ سے زیادہ طلبہ نے شرکت کی، جو ملک کے۵۵۱؍ سے زائد شہروں او ۵؍ ہزار ۵۰۰؍ سے زیادہ امتحانی مراکز پر منعقد ہوا تھا۔
تقریباً ۴؍لاکھ اراکین پر مشتمل آئی ایم اے نے مرکز سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نیٹ-یو جی کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں آن لائن موڈ میں منعقد کیا جائے تاکہ پرچہ لیک اور امتحانی دھاندلی کے امکانات کم کئے جا سکیں۔ وزیر تعلیم نے جمعہ کو ہی اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال سے امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (سی بی ٹی) موڈ میں ہوگا، تاہم امسال دوبارہ امتحان قلم اور کاغذ کے روایتی طریقے سے لیا جائے گا۔
لکھیم پور کھیری میں جمعرات کو ایک ۲۱؍ سالہ طالب علم کی خود کشی کے بعد جمعہ کو نئی دہلی میں بھی ایک طالبہ نے خود کشی کر لی۔ راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیر میں خود کشی کے واقعہ کی مذمت کرتےہوئے اسے ’’ادارہ جاتی قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی جوابدہی طے ہونے سے پہلے مزید کتنی اموات ہوں گی۔لکھیم پور کھیری کے ۲۱؍ سالہ رتیک مشرا کے تعلق سے اہل خانہ نے بتایا ہے کہ اس نے امسال تیسری بار نیٹ کا امتحان دیا اور اب کی بار اسے کامیابی کا پختہ یقین تھا۔ پرچہ لیک کے انکشاف اور امتحان کے منسوخ ہونے کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھا۔ اس پر راہل گاندھی نے ایکس پر ہندی میں پوسٹ کرتے ہوئے امتحانی بدعنوانی کے خلاف لڑنے کا عزم کیا اور کہا کہ وہ طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے مودی حکومت کو للکاراتے ہوئے کہا کہ’’ بچوں کا مستقبل چرانے والوں‘‘ کو جوابدہ بنایا جائے گا۔راہل گاندھی نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ خود کشی کرنے والے نوجوان کے آخری الفاظ تھے ’’اب مزید کوئی مقابلہ جاتی امتحان نہیں۔‘‘ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’نیٹ میں تیسری بار شرکت کرنے والا یہ بچہ امتحان منسوخ ہوتے ہی ٹوٹ گیا۔‘‘انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’گوا میں بھی نیٹ کے ایک امیدوار نے اپنی جان لے لی۔ یہ بچے امتحان سے نہیں ہارے، بلکہ بدعنوان نظام نے انہیں مار ڈالا۔ یہ خودکشی نہیں، نظام کے ہاتھوں قتل ہے۔‘‘ وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے سوال کیا ہے کہ ’’مودی جی، آپ کا احساس ِجوابدہی کب جاگے گا؟ کتنے رتیک اور؟‘‘
شمال مغربی دہلی کے آدرش نگر علاقے میں نیٹ کی تیاری کرنے والی۲۰؍ سالہ طالبہ جمعرات کو اپنے گھر میں مردہ پائی گئی۔ اس کے اہل خانہ اس کی آخری رسومات ادا کرنے جارہے تھے تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔پولیس افسر نے بتایا کہ ’’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے اپنے گھر میں پھندا لگا کر خودکشی کی۔‘‘ افسر نے کہا، ’’خاندان کے افراد موت کے بعد قانونی کارروائی سے متعلق طریقہ کار سے ناواقف تھے، اس لئے انہوں نے پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے لاش کو شمشان گھاٹ منتقل کر دیا۔‘‘ متوفی کے چچا نے بتایا کہ نیٹ امتحان منسوخ ہونے کے بعد سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔